حُسنِ اخلاق — Page 19
38 37 فرمودات حضرت مسیح موعود علیہ السلام حقیقی نیکی کرنے والوں کی یہ خصلت ہے کہ وہ محض خدا کی محبت کے لئے وہ کھانے جو آپ پسند کرتے ہیں مسکینوں اور یتیموں اور قیدیوں کو کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تم پر کوئی احسان نہیں کرتے بلکہ یہ کام صرف اس بات کے لئے کرتے ہیں کہ خدا ہم سے راضی ہو اور اُس کے منہ کے لئے یہ خدمت ہے ہم تم سے نہ تو کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ چاہتے ہیں کہ تم ہمارا شکر کرتے پھرو۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن 10 صفحه 357) واقعہ ایک دفعہ ایک معزز احمدی قادیان تشریف لائے وہ بوجہ عدیم الفرصتی کے ایک گھنٹہ کے لئے حضرت اقدس کی ملاقات کو آئے تھے۔صاحب حیثیت تھے اور بالکل مختصر ملاقات کو آئے تھے پھر واپس چلے جانا تھا۔حضرت میر محمد اسحاق صاحب ایسے لوگوں کی تاک میں رہا کرتے تھے تا کہ ان کو بھی ثواب میں شامل کر لیں جانتے تھے کہ صاحب حیثیت ہیں تو طریقہ بہت اچھا ڈھونڈا انہوں نے فوراً بھائی احمد دین ڈنگوی کی دکان سے ان کے لئے لسی اور ناشتہ کا انتظام کیا ان کو ساتھ لے کر دار الشیوخ میں تشریف لائے جب کسی اور ناشتہ پیش کیا تو ویسے بھی اس وقت آنے والے کی عزت افزائی ہونی چاہیے تھی۔مہمان کی خدمت ہونی چاہیے تھی تو ذاتی طور پر جب ان کولسی کا ناشتہ وغیرہ ملا تو بہت خوش ہوئے تو کہا آؤ آپ کو دار الشیوخ دکھا دوں دارالشیوخ میں تشریف لائے اور فرمایا کہ جماعت کے یتیم اور مسکین ہیں اور ایک بہت پیاری بات کہی۔”یہ میرا باغ ہے میں نے یہ باغ لگایا ہے۔“ دیکھو خدا تعالیٰ نے اس باغ کو ساری دنیا میں پھیلا دیا۔اس کثرت سے یہ باغ ملک ملک لگ رہے ہیں کہ میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ اس زمانے میں نیکی اور خلوص اور تقویٰ نے جو بنیادیں ڈالی تھیں انہیں پر یہ عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں وہ بیج جو بوئے گئے تھے وہ اس وقت باغ کہلانے کے ابھی حقیقت میں مستحق نہیں تھے کیونکہ تھوڑے سے چند پودے تھے اب تو وہ عالمی باغ بن گئے ہیں تمام جہاں پر ان کا عرصہ محیط ہو چکا ہے فرمایا اللہ کی خاطر ہے آپ بھی اس کی آبیاری میں حصہ لیں و ہ احمدی دوست چند منٹ میں آپ کی باتوں سے اس قدر متاثر ہوئے کہ پانچ صد روپے کی رقم ان یتامی کی اعانت کے لئے پیش کر دی۔یہ پانچ صد روپے کی جو رقم ہے بظاہر دیکھنے میں اس وقت کے لحاظ سے اگر چہ بڑی تھی مگر پھر بھی کچھ نہیں اب واقعہ یہ ہے کہ میں بعض ایسے یتامی کو جو دارالشیوخ میں پلے تھے ذاتی طور پر جانتا ہوں جنہوں نے زندگی بھر ایک کروڑ روپے دوسرے یتامیٰ اور ضرورت مندوں کے لئے خرچ کئے ہوں گے تو براہ راست وہ پودے جو وہاں لگے تھے ان کا فیض بھی پھیلا ہے ان کی جڑیں بھی پھیلی ہیں ان کی شاخیں بھی پھیلی ہیں اور بڑے وسیع علاقوں میں محیط ہیں۔الفضل 4 مئی 1999) آج دنیا میں کہیں بھی کوئی بھی حقیقی رنگ میں یتامیٰ کا پرسان حال نہیں۔جماعت احمدیہ واحد جماعت ہے جو اپنی بساط بھر کوششوں سے اس خزاں میں بہار پیدا کر رہی ہے اور یہ اسوہ نبی پر عمل ہے۔