حُسنِ اخلاق — Page 68
136 135 وہ بد نما قال اللہ تعالیٰ اپنی محنت نہیں عطیہ خداوندی سمجھتے تھے۔تم دیکھ کر بھی بد کو بچو بد گمان سے ڈرتے ނ رہو عقاب خدائے جہان شاید تمہاری آنکھ ہی کر جائے کچھ خطا شاید وہ بد نہ ہو جو تمھیں ہے شاید تمہارے فہم کا ہی کچھ قصور ہو شاید وہ آزمائش رب وہی کرتا ہے ظن غفور بلا ہو درمین کہ جو رکھتا ہے پردے میں وہی عیب توکل 1 - ترجمہ: اور چاہیے کہ مومن اللہ ہی پر توکل کریں۔“ (ال عمران: 161) 2- ترجمہ: ” اور جو اللہ پر توکل کرے تو وہ اس کے لئے کافی ہے۔“ (طلاق:4) 3- ترجمہ: اور اللہ ہی پر چاہیے کہ تو گل کرنے والے تو کل کریں۔اگر عشاق کا ہو پاک دامن یقیں سمجھو کہ مشکل یہی ہے تریاق دامن درمیاں میں خار کم ہیں بوستاں میں ہے در مشین گا۔(ابراہیم : 13 ) 4۔ترجمہ:۔اور توکل کر اُس زندہ پر جو کبھی نہیں مرے قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (الفرقان : 59) 1 - فرمایا جو تو کل کرے اللہ تعالیٰ اس کے لئے کافی ہے۔حصین بن عبدالرحمن کا بیان ہے کہ سعید بن جبیر کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو اُنہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میری امت کے ستر ہزار افراد بغیر حساب جنت میں داخل ہوں گے یہ وہ لوگ ہوں گے جو نہ غیر شرعی جھاڑ پھونک کریں نہ شگون لیں اور اپنے رب پر بھروسہ کریں۔( صحیح بخاری جلد سوم کتاب الرقاق صفحہ 543 باب 827 حدیث 1392 )