حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 66 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 66

132 131 مطابق سلوک کرتا ہوں جو وہ میرے متعلق رکھتا ہے جہاں بھی وہ میرا ذکر کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔خدا کی قسم اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اتنا خوش ہوتا ہے کہ اتنا خوش وہ شخص بھی نہیں ہوتا جسے جنگل بیابان میں اپنی گمشدہ اُونٹنی مل جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص مجھ سے بالشت بھر قریب ہوتا ہے میں اس سے گز بھر قریب ہوتا ہوں اگر وہ مجھ سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں۔اور جب وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔“ واقعہ نمبر 1 66 ( بخاری کتاب الدعوات باب التوبہ مسلم) حضرت ابو حنیفہ عطاء بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ نے ایک لونڈی کو جو اُن کی بکریاں چرایا کرتی تھی۔ایک بکری کا خاص طور پر خیال رکھنے کی ہدایت کی چنانچہ وہ بکری موٹی تازی ہو گئی۔ایک دن چرواہن بعض اور جانوروں کی دیکھ بھال میں مصروف تھی کہ ایک بھیڑیئے نے آ کر اس بکری کو چیر پھاڑ دیا عبد اللہ بن رواحہ نے اس بکری کو نہ پا یا تو اس کے متعلق پوچھا۔چرواہن نے سارا واقعہ بتا دیا جس پر انہوں نے چرواہن کو تھپڑ مار دیا بعد میں اپنے فعل پر شرمندہ ہوئے اور اس واقعہ کا ذکر آنحضور" سے کیا۔آپ نے اس بات کو بڑی اہمیت دی اور فرمایا کہ تم نے ایک مومنہ کے منہ پر تھپڑ مارا اس پر عبد اللہ بن رواحہ نے عرض کیا حضور وہ تو جشن ہے اور جاہل سی عورت ہے اسے دین وغیرہ کا کچھ علم نہیں۔حضور نے اس چرواہن کو بلا بھیجا اور اس سے پوچھا اللہ کہاں ہے اس نے کہا آسمان پر پھر آپ نے دریافت کیا میں کون ہوں؟ اس نے جواباً کہا اللہ کے رسول یہ سُن کر آپ نے فرمایا یہ مومنہ ہے اسے آزاد کر دو اس پر عبد اللہ بن رواحہ نے اسے آزاد کر دیا۔واقعہ نمبر 2 (مسند الامام الاعظم الایمان والاسلام) ( منقول از حدیقة الصالحین صفحه 244-245 حدیث (179) حضرت اسامہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جہینہ قبیلہ کے نخلستان کی طرف بھیجا جنہوں نے مسلمانوں کو قتل کر کے جلا دیا تھا ہم نے صبح صبح ان کے چشموں کو جالیا۔میں نے اور ایک انصاری نے ان کے ایک آدمی کا تعاقب کیا جب ہم نے اس کو جا لیا اور اسے مغلوب کر لیا تو وہ بول اُٹھا خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں یعنی اس نے اظہار کیا کہ وہ مسلمان ہے اس بات پر میرا انصاری ساتھی تو رک گیا لیکن میں نے اسے قتل کر کے چھوڑا جب ہم مدینہ واپس آئے اور آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا ! اے اُسامہ! کلمہ توحید پڑھ لینے کے باوجود تم نے اسے قتل کر دیا ؟ کیا تو نے اس کے لا الہ الا اللہ کہنے کے باوجود اُسے قتل کر دیا؟ بار بار یہ دھراتے جا رہے تھے یہاں تک میں نے تمنا کی کاش میں آج سے پہلے مسلمان ہی نہ ہوتا۔( تا کہ یہ غلطی مجھ سے سرزد ہی نہ ہوتی )۔( صحیح بخاری جلد دوم کتاب المغازی باب بعث النبی اسامہ بن زید الی الحرقات من جهينة ) فرمودات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام 1- فساد اس سے شروع ہوتا ہے کہ انسان ظنُونِ فاسدہ اور شکوک سے کام لینا شروع کرے۔اگر نیک ظن کرے تو پھر کچھ دینے کی توفیق بھی مل جاتی ہے