حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 64 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 64

128 127 سکھائی رَبَّنَا حَامِدُونَ کہ ہم گھر لوٹے تو بہ کرتے ہوئے اس کی حمد وشکر کے ترانے گاتے ہوئے آئیں کہ پروردگارشکر ہے گھر خیر سے آئے۔( ترمذی باب الدعوات ) 7- کسی مصیبت زدہ کو دیکھتے تو دعا کرتے اللہ تیرا شکر ہے تو نے مجھے اس سے عافیت میں رکھا جس میں اسے مبتلا کیا اور مجھے بہت مخلوق پر فوقیت بخشی۔( ترمذی باب الدعوات ) 8- فرمایا۔”جب جنت کے باغیچوں میں جاؤ تو وہاں اس کا پھل کھاؤ جنت کے باغیچے مساجد ہیں اور وہاں پھول چنا سُبْحَانَ اللَّهِ الْحَمْدُ لِلَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ کہنا ہے۔(ترمذی باب الدعوات) 9- آپ نے ایک خشک ٹہنی پر چھڑی سے ضرب لگائی تو پتے جھڑنے لگے آپ نے فرمایا الْحَمْدُ لِله۔سُبْحَانَ الله لا اله الا اللہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں کو اس طرح جھاڑتا ہے جیسے اس درخت کے پتے گرے۔( ترمذی باب الدعوات) واقعہ نمبر 1 حضرت سعد بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ طیبہ روانہ ہوئے اور جب مقام زوعرا کے قریب پہنچے تو سواری سے اُتر گئے اور ہاتھ اُٹھا کر دیر تک بار الہی میں دعا کی پھر مسجد میں گئے اور دیر تک اسی حالت پڑے رہے پھر سر اُٹھا کر تضرع کے ساتھ دعا شروع کی اور اس کے بعد جبینِ نیاز خاک پر رکھی اس دعا و سجود سے فارغ ہو کر آپ نے صحابہ سے فرمایا۔”میں نے اپنی اُمت کی مغفرت کے لئے خدا سے دعا مانگی تھی جس کا ایک حصہ مقبول ہوا میں شکر کے لئے سجدے میں گرا پھر مزید درخواست کی اس نے وہ بھی قبول کی میں سجدہ شکر بجا لایا اور پھر دعا و زاری کی اس نے وہ بھی قبول کی اس نے اس کو بھی درجہ استجابت بخشا اور پھر میں سجدہ میں گر پڑا۔“ (ابو داؤد کتاب السجود) واقعہ نمبر 2 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کی عنایات اور اس کے فضلوں کا جس طرح شکر ادا کرتے اس کا اندازہ حضرت عائشہ کی ایک روایت سے ہوتا ہے آپ بیان کرتی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اُٹھ کر نماز پڑھتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں متورم ہو کر پھٹ جاتے۔ایک دفعہ میں نے عرض کیا کہ صلى الله اے اللہ کے رسول آپ ہے کیوں اتنی تکلیف اُٹھاتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ہے کے اگلے پچھلے سب قصور معاف فرما دئے ہیں یعنی ہر قسم کی غلطیوں اور لغزشوں سے محفوظ رکھنے کا ذمہ لے لیا ہے اس پر حضور ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں یہ نہ چاہوں کہ اپنے رب کے فضل و احسان پر اس کا شکر گزار بندہ بنوں۔“ ( صحیح بخاری ابواب التهجد باب 719 حدیث 1058) عجب میرے خدا میرے پہ احساں تیرا کس طرح شکر کروں اے مرے سلطان تیرا کس زباں سے میں کروں شکر کہاں ہے وہ زباں کہ میں ناچیز ہوں اور رحم فراواں تیرا اگر ہر بال شکر تو پھر بھی ہو جائے سخن ہے امکاں ނ ور باہر 66