حُسنِ اخلاق — Page 62
124 123 ( وفاء الوفاء جلد اول ص 179 تا 181 نور الدین سمبوری مطبع آداب 1326ھ ) فرمودات حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1- اور منجملہ انسان کے طبعی امور کے جو اس کی طبیعت کے لازم حال ہیں۔ہمدردی خلق کا ایک جوش ہے۔قومی حمایت کا جوش بالطبع ہر ایک مذہب کے لوگوں میں پایا جاتا ہے اور اکثر لوگ طبعی جوش سے اپنی قوم کی ہمدردی کے لئے دوسروں پر ظلم کر دیتے ہیں گویا انہیں انسان نہیں سمجھتے سو اس حالت کو خُلق نہیں کہہ سکتے یہ فقط ایک طبعی جوش ہے اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ حالت طبعی کوؤں وغیرہ پرندوں میں بھی پائی جاتی ہے کہ ایک کوّے کے مرنے پر ہزار ہا کوے جمع ہو جاتے ہیں۔لیکن یہ عادت انسانی اخلاق میں اس وقت داخل ہو گی جب کہ یہ ہمدردی انصاف اور عدل کی رعایت سے محل اور موقع پر ہو اس وقت یہ ایک عظیم الشان خُلق ہو گا جس کا نام عربی میں مواسات اور فارسی میں ہمدردی اسلامی اصول کی فلاسفی ، رُوحانی خزائن جلد 10 ص363) ہے۔2- رسول کریم اپنے صحابہ کو اس بات کی نصیحت فرماتے کہ آپس میں تعاون کے ساتھ کام کیا کرو چنانچہ اپنی جماعت کے لوگوں کے لئے آپ نے اصول مقرر کر رکھا تھا کہ اگر کسی شخص سے کوئی ایسا مجرم سرزد ہو جائے جس کے بدلے میں اُسے کوئی رقم ادا کرنی پڑے اور وہ اس کی طاقت سے باہر ہو تو اس محلہ والے یا شہر والے یا قوم والے مل کر اس کا بدلہ ادا کریں گے۔(دیباچہ تفسیر القرآن صفحہ 64) واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تعاون کا حضرت مفتی محمد صادق صاحب لکھتے ہیں ایک دفعہ میں وضو کے واسطے پانی کی تلاش میں لوٹا ہاتھ میں لئے اس دروازے کے اندر گیا جو بیت المبارک سے حضرت صاحب کے اندرونی مکانات کو جاتا ہے تا کہ وہاں حضرت صاحب کے کسی خادم کو لوٹا دے کر پانی اندر سے منگوالوں اتفاقاً اندر سے حضرت صاحب تشریف لائے مجھے کھڑا دیکھ کر فرمایا آپ کو پانی چاہیے۔میں نے عرض کیا ہاں حضور ! آپ نے لوٹا میرے ہاتھ سے لیا اور فرمایا میں لا دیتا ہوں اور خود اندر سے پانی لے کر آئے اور مجھے عطا کیا۔(ذکر حبیب) قال اللہ تعالیٰ -1- ترجمہ: اور یقیناً ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی ( یہ کہتے ہوئے) کہ اللہ کا شکر ادا کر اور جو بھی شکر ادا کرے تو وہ محض اپنے نفس کی بھلائی کے لئے ہی شکر ادا کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو یقیناً اللہ غنی ہے(اور ) بہت صاحب تعریف ہے۔“ (لقمان: 13) -2- ترجمہ: اور جب تمہارے رب نے یہ اعلان کیا کہ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں ضرور تمھیں بڑھاؤں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے۔“ (ابراہیم : 8) 3- ترجمہ: اور جہاں تک تیرے رب کی نعمت کا تعلق ہے تو (اسے) بکثرت بیان کیا کر۔“ (الضحی : 12)