حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 54 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 54

108 107 گزرے انہوں نے یہ ساری گفتگوسُن لی اور خاموشی سے چلے گئے اسی روز رات کے وقت ایک شخص حافظ کے پاس آیا اور قریباً ڈیڑھ سیر دودھ دے کر چلا گیا اور پھر یہ سلسلہ جاری رہا وہ شخص خاموشی سے آتا اور دودھ دے کر چلا جاتا۔حضرت حافظ صاحب نے یہ قصہ شیخ عبدالعزیز کو سنایا۔شیخ عبد العزیز فرماتے ہیں میرے دل میں خیال آیا کہ دیکھوں کہ یہ کون شخص ہے جو مسلسل ڈیڑھ سال سے دودھ لے کر آتا ہے اور کبھی ناغہ بھی نہیں کرتا نہ ہی رقم کا مطالبہ کرتا ہے چنانچہ اس خیال کے تحت میں ایک روز اس شخص کے آنے سے پہلے ہی حافظ صاحب کے دروازے کے آس پاس گھومنے لگا اتنے میں ایک شخص ہاتھ میں برتن لئے ان کے گھر کے اندر چلا گیا چونکہ سردیوں کے دن تھے حافظ صاحب اندر چار پائی پر بیٹھے تھے اس شخص نے حسب معمول دودھ دیا میں اسے دیکھنے کے لئے جب اندر داخل ہوا وہ آہٹ سُن کر کونے میں جا کر کھڑا ہوا اندھیرے کی وجہ سے میں پہچان نہ سکا میں نے پاس جا کر پوچھا کہ بھائی تم کون ہو؟ مجھے دھیمی آواز آئی شیر علی۔میں سخت شرمندہ ہوا کہ جس کام کو حضرت مولوی صاحب راز رکھنا چاہتے تھے میں نے اسے افشاء کر دیا مجھے دیر تک آپ کے سامنے جاتے ہوئے شرم محسوس ہوتی تھی۔خدا (سیرت شیر علی ) ( منقول از الفضل 28 جون 2003) سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار فکر نثار جو سب کچھ ہی کرتے ہیں اس پر میں رہتے ہیں روز و شب وہ دلدار ہوتا ہے کب ای که راضی اسے چکے مال مال و جاں بار بار ابھی خوف دل میں کہ ہیں نابکار لگاتے ہیں دل اپنا اُس پاک ނ وہی پاک جاتے ہیں اس خاک سے درین صفحہ 15 قال اللہ تعالیٰ صداقت (سچائی) 1 اور وہ لوگ جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب وہ لغویات کے پاس سے گزرتے ہیں تو وقار کے ساتھ گزرتے ہیں۔“ (الفرقان:73) 66 2۔”اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صادقوں کے ساتھ ہو جاؤ۔“ (التوبة: 119) 3۔”اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صاف سیدھی بات کیا کرو۔(احزاب: 71) 4۔”اے وے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم کیوں (الصف: 3) وہ کہتے ہو جو کرتے نہیں۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سچائی کی وجہ سے اپنے دوستوں دشمنوں میں صادق لقب سے پہچانے جاتے تھے۔قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم 1 - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” الصدق شفیعی‘ صدق میرا شفیع