حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 47 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 47

94 93 واقعہ نمبر 2 ابتدائے اسلام کے وقت اتوار اور جمعرات کے دن خانہ کعبہ کے دروازے کھولے جاتے تھے کہ لوگ اندر جاسکیں اس وقت خانہ کعبہ کے دربان عثمان بن طلحہ تھے ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب خانہ کعبہ کے اندر داخل ہونے لگے اور دربان عثمان بن طلحہ نے آپ کو اندر جانے کی اجازت نہ دی اور سختی سے پیش آیا اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن طلحہ کے رویہ کو دیکھ کر فرمایا: - اے عثمان ! ایک دن آئے گا جب تو خود دیکھے گا کہ یہی چابیاں میرے ہاتھ میں ہوں گی اور جسے میں چاہوں گا یہ چابیاں دوں گا۔“ مکہ کا دن وہی دن تھا اور عثمان بن طلحہ اپنے اس رویہ کو یاد کر کے لرزتے ہوئے ہاتھوں سے چابیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر رہا تھا کہ نہ جانے اب اس سے انتقاماً کیا سلوک ہوتا ہے مگر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم خانہ کعبہ سے باہر تشریف لائے تو چابیاں عثمان بن طلحہ کے حوالے کر دیں اور فرمایا۔میں یہ چابیاں ہمیشہ کے لئے تمہیں اور تمہارے خاندان کو دیتا ہوں اور سوائے ظالم کے کوئی بھی تم سے یہ چابیاں نہیں چھین سکے گا۔“ السيرة الحلبيلہ جلد 3 صفحہ 101 ) واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عفو اور درگزر کا ایک دفعہ حضرت مسیح موعود بیت اقصیٰ میں لیکچر دے رہے تھے کہ دوسکھ بھی وہاں آگئے انہوں نے حضور کی تقریر میں مداخلت شروع کر دی اندھا سکھ بولا پیارو ، متر و میری اک غرض اس کا انداز یہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ تقریر میں رخنہ ڈال کر اپنے مذہب کے متعلق کچھ پر چار کرنا چاہتا تھا جس پر قریب کے لوگوں نے اسے روک دیا کہ بولو نہیں وعظ ہو رہا ہے دومنٹ کے بعد پھر اس اندھے سکھ نے پہلے کی طرح کہا پھر لوگوں نے اسے روک دیا اس پر نو جوان سکھ نے گالیاں دینی شروع کر دی اس وقت پولیس کا انتظام تھا اور محمد بخش تھانیدار بھی آیا ہوا تھا لوگوں نے تھانیدار سے کہا دو سکھ بیت الذکر میں گالیاں دے رہے ہیں تھانیدار اس وقت مرزا نظام دین کے دیوان خانے میں کھڑا تھا اور سپاہی اس کے ساتھ تھے وہ گئے اور ان سکھوں کو پکڑ کر دیوان خانہ میں لے گئے۔حضرت صاحب کو تقریر ختم کرنے کے دو گھنٹے بعد کسی شخص نے آکر بتایا کہ تھانیدار نے ان سکھوں کو مارا ہے۔حضرت صاحب نے اسی وقت فرمایا : ”تھانیدار سے کہو کہ ان کو چھوڑ دو۔“ اس پر تھانیدار نے ان سکھوں کو چھوڑ دیا۔(سيرة المہدی جلد 3 صفحہ 239