حُسنِ اخلاق — Page 46
92 91 نے فرمایا سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ تو قطع تعلق کرنے والے سے تعلق قائم رکھے اور جو تجھے نہیں دیتا ہے اسے بھی دے اور جو تجھے بُرا بھلا کہتا ہے اس سے تو درگزر کرے۔(مسند احمد جلد 3 صفحہ 438) 3- حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ صدقہ سے مال میں کمی نہیں ہوتی اور جو شخص دوسرے کے قصور معاف کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اور عزت دیتا ہے اور کسی کے قصور معاف کر دینے سے کوئی بے عزتی نہیں ہوتی۔(مسند احمد صفحہ 235/2، صفحہ 438/2) 4- ترجمہ: اور اللہ اس شخص کو جو عفو ، در گذر کرتا ہے نہیں بڑھاتا مگر عزت (ترمذی ابواب البر والصله باب ماجاء في التواضع) میں۔واقعہ نمبر 1 آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں بلکہ مجرموں میں سے ابوسفیان کی بیوی ھند بنت عتبہ بھی تھی جس نے اسلام کے خلاف جنگوں کے دوران کفار قریش کو اُکسانے اور بھڑ کانے کا فریضہ خوب ادا کیا تھا اور رجزیہ اشعار پڑھ کر اپنے مردوں کو انگیخت کیا تھا کہ اگر فتح مند ہو کر لوٹو گے تو ہم تمہارا استقبال کریں گے ورنہ ہمیشہ کے لئے جدائی اختیار کر لیں گی۔(ابن ہشام جلد 3 صفحہ 151 دارالمعرفہ بیروت) اسی طرح جنگ اُحد میں اسی ھند نے رسول اللہ کے چچا حضرت حمزہ کی نعش کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا تھا ان کے ناک کان اور دیگر اعضاء کاٹ کر لاش کا حلیہ بگاڑا اور ان کا کلیجہ چبا کر آتش انتقام سرد کی تھی۔فتح مکہ کے بعد جب رسول اللہ نے عورتوں کی بیعت لی تو یہ ھند بھی نقاب اوڑھ کر آگئی کیونکہ اس کے جرائم کی وجہ سے اسے واجب القتل مجرمہ قرار دے دیا گیا تھا بیعت کے دوران اس نے بعض شرائط بیعت کے بارے میں استفسار کیا تو نبی کریم پہنچان گئے کہ ایسی دیدہ دلیری ہند ہی کر سکتی ہے آپ نے پوچھا کیا تم ابوسفیان کی بیوی ہند ہو؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں تو اب مسلمان ہو چکی ہوں جو کچھ پہلے گزر چکا آپ اس سے درگزر فرمائیں اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک فرمائے گا۔رسول کریم کا حوصلہ دیکھئے کہ آپ نے اپنے محبوب چا کا کلیجہ چبانے والی ہند کو معاف فرما کر ہمیشہ کے لئے اس کا دل جیت لیا اس پر آپ کے عفو و کرم کا ایسا اثر ہوا کہ اس کی کایا پلٹ گئی اس نے اپنا دل بھی شرک و بت پرستی سے پاک کیا اور گھر میں بھی موجود بت تو ڑ کر نکال باہر کئے۔اس شام ہند نے رسول اللہ کے لئے ضیافت کے اہتمام کی خاطر دو بکرے ذبح کروا کر اور بھون کر حضور ﷺ کی خدمت میں بھجوائے اور خادمہ کے ہاتھ پیغام بھجوایا کہ ھند بہت معذرت کرتی ہے کہ آج کل جانور کم ہیں اس لئے حقیر تحفہ پیش کرنے کی توفیق پا رہی ہوں قبول فرمائیں۔ہمارے محسن و آقا و مولا جو کسی کے احسان کا بوجھ اپنے اوپر نہ رکھتے تھے اسی وقت دعا کی کہ اے اللہ ! ان بکریوں کے ریوڑ میں بہت برکت ڈال دے یہ دعا اس شان کے ساتھ قبول ہوئی کہ ھند سے بکریاں سنبھالی نہ جاتی تھیں پھر تو هند رسول اللہ کی ایسی دیوانی ہوئی کہ خود کہا کرتی تھی کہ یا رسول اللہ ایک وقت تھا جب آپ کا گھر میری نظر میں دنیا کا سب سے زیادہ ذلیل اور حقیر گھر تھا مگر اب یہ حال ہے کہ روئے زمین پر تمام گھرانوں سے معزز مجھے آپ کا گھر ہے۔(سیرت الحلبیہ جلد3 صفحہ 118 مطبوعہ بیروت) منقول از روزنامه الفضل 11 مارچ 1999 )