حُسنِ اخلاق — Page 45
06 90 89 ہے جو میرے پاس تھیں کہ انھوں نے تمہاری آواز سنی تو پردے میں جا چھپیں۔عرض گزار ہوئے یا رسول اللہ حق دار تو آپ زیادہ ہیں کہ آپ سے زیادہ ڈرا جائے پھر ان کی جانب متوجہ ہو کر کہا اے اپنی جان سے دشمنی کرنے والیو ! تم مجھ سے ڈرتی ہو لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتیں انہوں نے کہا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نہیں بلکہ غصے والے اور سخت گیر ہیں رسول اللہ نے فرمایا کہ ابن خطاب سنو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر شیطان تمہیں کسی راستے پر چلتا ہوا دیکھ لے تو تمہارے راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر چل دے گا۔( صحیح بخاری جلد سوم کتاب الادب حدیث نمبر 1019 صفحہ 402) دل جس کا ہوا حامل اسرار محبت چہرے پر برسنے لگے انوار محبت لائے نہ اگر لب بھی گفتار محبت آنکھوں سے عیاں ہوتے ہیں آثار محبت وو در عدن فرمودات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام رفق اور قول حسن ” یہ خلق جس حالت طبعی سے پیدا ہوتا ہے اُس کا نام طلاقت یعنی کشادہ روئی ہے۔بچہ جب تک کلام کرنے پر قادر نہیں ہوتا بجائے رفق اور قولِ حُسن کے طلاقت دکھلاتا ہے یہی دلیل اس بات پر ہے کہ رفق کی جڑھ جہاں سے یہ شاخ پیدا ہوتی ہے طلاقت ہے طلاقت ایک قوت ہے اور رفق ایک خلق ہے جو اس قوت کو محل پر استعمال کرنے سے پیدا ہو جاتا ہے۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 350) عفو درگزر عفو درگز ر اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی صفت ہے۔اللہ تعالیٰ کے خاص ناموں میں الْعَفُو در گزر کرنے والا غَافِرٌ ، غَفُورٌ اور غَفَّارٌ بہت معاف کرنے والا ہے شامل ہیں۔قال اللہ تعالیٰ 1 - ترجمہ :۔اور غصہ دبا جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں۔66 (ال عمران : 135) -2- ترجمہ : پس چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اور در گزر کریں۔کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے اور اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔“ (النور: 23) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 1- ایک شخص نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر پوچھا کہ یا رسول اللہ میں اپنے خادم کا قصور کتنا معاف کروں آپ پہلے تھوڑی دیر چپ رہے اس نے پھر یہی پوچھا تب آپ نے فرمایا ہر روز ”ستر دفعہ اس سے مقصود تعداد کی تحدید نہیں بلکہ عفو و درگزر کی کثرت ہے۔(ترمذی ابواب البر والصله باب ماجاء فی ادب الخادم) 2- حضرت معاذ بن انس بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم