حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 42 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 42

84 83 قال اللہ تعالیٰ غصہ پر قابو رکھنا 1 - ترجمہ : ” اور غصہ دیا جانے والے۔“ (ال عمران : 135) 2- ترجمہ: اور جب وہ غضب ناک ہوں تو بخشش سے کام لیتے ہیں۔“ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (شوری: 38) 1- سعید بن مسیب نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلوان وہ نہیں ہے جو کسی کو پچھاڑ دے جبکہ پہلوان وہی ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھ سکے۔( صحیح بخاری جلد سوم کتاب الادب صفحہ 411 حدیث 1046) 2 عدی بن ثابت کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان بن سُر و رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور دو آدمیوں نے ایک دوسرے کو گالی دی اور ہم بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے ان میں سے ایک اپنے ساتھی کو غصے میں گالی دے رہا تھا اور اس کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں اگر یہ اسے کہہ دے تو اس کا غصہ جاتا رہے فرمایا کہ وہ اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ہے۔(صحیح بخاری جلد سوم کتاب الادب صفحہ 411 حدیث 1047) 3- ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض گزار ہوا کہ مجھے کوئی وصیت فرمائیے ارشاد ہوا کہ غصے میں نہ آیا کرو اس نے بار بار یہی گزارش کی اور آپ نے فرمایا کہ غصہ میں نہ آیا کرو۔(صحیح بخاری جلد سوم کتاب الادب صفحہ 412 حدیث 1048) 4- آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غصہ شیطان سے ہے اور شیطان آگ سے بنا ہے اور آگ کو پانی ٹھنڈا کرتا ہے تو جس کو غصہ آئے تو اس کو چاہیے وضو کرے۔5- حضرت ابو ذر بیان کرتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کو غصہ آئے وہ اگر کھڑا ہے تو چاہیے کہ بیٹھ جائے اگر اس سے بھی کم نہ ہو تو چاہیے کہ لیٹ جائے۔(سنن ابی داؤد كتاب الادب من كم غيظا حدیث نمبر 4 اور 5) واقعہ نمبر 1 حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول کریم کے پاس مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے پھر آپ کھڑے ہوئے مسجد کے عین درمیان میں پہنچے اچانک ایک آدمی نے آپ کو پکڑا اور اس نے آپ ﷺ کی چادر سے پکڑ کر پیچھے سے کھینچا۔چادر بہت موٹی تھی اس کے کھینچنے کی وجہ سے آپ ﷺ کی گردن سرخ ہوگئی اس نے کہا اے محمد میرے لئے میرے ان اُونٹوں پر سامان لاد دو اور پھر نہایت گستاخی سے کہنے لگا تم کوئی اپنے مال سے یا اپنے باپ کے مال سے تو نہیں دیتے نا آپ نے فرمایا نہیں۔استغـفـر الله استغفر الله۔استغفر الله ٹھیک ہے مگر جب تک تم میری گردن نہیں چھوڑو گے میں تم کو مال نہیں دے سکتا اس نے کہا نہیں ہر گز نہیں میں آپ کو نہیں چھوڑوں گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔