حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 4 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 4

8 7 انسانی پیدائش کا مقصد وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِ نُسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: 57) ترجمہ: اور میں نے جن اور انس کو پیدا نہیں کیا مگر اس غرض سے کہ وہ میری عبادت کریں۔ا ”میں نے جن اور انسان کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ مجھے پہچانیں اور میری پرستش کریں پس اس آیت کی رُو سے اصل مدعا انسان کی زندگی کا خدا تعالیٰ کی پرستش اور خدا تعالیٰ کی معرفت اور خدا تعالیٰ کے لئے ہو جانا ہے یہ تو ظاہر ہے کہ انسان کو تو یہ مرتبہ حاصل نہیں ہے کہ اپنی زندگی کا مدعا اپنے اختیار سے آپ مقرر کرے کیونکہ انسان نہ اپنی مرضی سے آتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے واپس جائے گا بلکہ وہ ایک مخلوق ہے اور جس نے پیدا کیا اور تمام حیوانات کی نسبت عمدہ اور اعلیٰ قومی اس کو عنایت کئے اُسی نے اُس کی زندگی کا ایک مدعا ٹھہرا رکھا ہے خواہ کوئی انسان اس مدعا کو سمجھے یا نہ سمجھے مگر انسان کی پیدائش کا مد عا بلاشبہ خدا کی پرستش اور خدا کی معرفت اور خدا تعالیٰ میں فانی ہو جانا ہے۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 ص 414) حقیقی اخلاق إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ با الْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَ إِيْتَآيءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالمُنْكَر وَالْبَغْى * يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (حل : 91) ترجمہ: - یقیناً اللہ عدل کا اور احسان کا اور اقرباء پر کی جانے والی عطا کی طرح عطا کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور ناپسندیدہ باتوں اور بغاوت سے منع کرتا ہے۔وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تا کہ تم عبرت حاصل کرو۔تفسیر : - اللہ تعالیٰ حکم کرتا ہے کہ تم عدل کرو اور عدل سے بڑھ کر یہ ہے کہ باوجود رعایت عدل کے احسان کرو اور احسان سے بڑھ کر یہ ہے کہ ایسے طور سے لوگوں سے مروت کرو کہ جیسے کہ گویا وہ تمہارے پیارے اور ذوالقربیٰ ہیں اب سوچنا چاہیے کہ مراتب تین ہی ہیں اول انسان عدل کرتا ہے یعنی حق کے مقابل حق کی درخواست کرتا ہے پھر اگر اس سے بڑھے تو مرتبہ احسان ہے اور اگر اس سے بڑھے تو احسان کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے اور ایسی محبت سے لوگوں سے ہمدردی کرتا ہے جیسے ماں اپنے بچے کی ہمدردی کرتی ہے یعنی ایک طبعی جوش سے نا کہ احسان کے ارادہ سے۔“ جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد 6 ص 127) نیکیوں کی ماں حضرت اقدس مسیح موعود فرماتے ہیں۔نیکیوں کی ماں اخلاق ہی ہے خیر کا پہلا درجہ جہاں سے انسان قوت پاتا ہے اخلاق ہے۔دو لفظ ہیں۔ایک خلق اور دوسرا خُلق۔خلق ظاہری پیدائش کا نام ہے اور خلق باطنی پیدائش کا جیسے ظاہر میں کوئی خوبصورت ہوتا ہے اور کوئی