حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 13 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 13

26 25 داری توڑنے سے تیری پناہ چاہے۔ارشاد ہوا ہاں کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ جو تجھے جوڑے میں اس سے تعلق جوڑوں اور جو تجھ سے توڑے میں اُس سے تعلق توڑ لوں ؟ عرض کی کہ اے رب! کیوں نہیں فرمایا کہ تجھے یہ شرف دیا۔“ ( صحیح بخاری مترجم جلد سوم کتاب الادب باب 569 من وصل وصلہ اللہ حدیث نمبر 925 صفحہ 369) کسی نے بارگاہ رسالت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ مجھے کوئی عمل بتائیے جو جنت میں لے جائے۔ارشاد فرمایا اللہ کی عبادت کرو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔نماز قائم کرو ، زکوۃ دو اور صلہ رحمی کرو۔( صحیح بخاری باب 566 فضل صلة الرحم حدیث 921 صفحہ 367 ) آپ نے فرمایا بیشک مہربانی ایک ایسی شاخ ہے جو رحمن سے ملی ہوئی ہے پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو اس سے ملے گا تو میں اس سے ملوں گا اور جو اس سے تعلق توڑے گا تو میں اس سے قطع تعلق کرلوں گا۔( صحیح بخاری جلد سوم کتاب الادب حدیث 926-927 صفحہ 369) پھر فرمایا۔جس کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اس کا رزق فراخ ہو اور اس کی عمر دراز ہو جائے تو اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کیا کرے۔( صحیح بخاری جلد سوم باب 568 حدیث 923 صفحہ 368) 1- محمد بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اُن کے والد ماجد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ رشتہ داری توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“ ( صحیح بخاری جلد سوم باب 568 حدیث 922 صفحہ 368) 2۔حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آہستہ نہیں بلند آواز سے سنا۔”ہاں میری اُن سے رشتہ داری ہے جسے میں تری کے ساتھ کر رکھتا ہوں یعنی رشتہ داری کے باعث صلہ رحمی کرتا ہوں۔“ ( صحیح بخاری جلد سوم باب 570 حدیث 928 صفحہ 369-370) 3 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! میرے ایسے رشتہ دار ہیں کہ اگر میں ان سے صلہ رحمی کروں اور بنا کر رکھوں تو وہ مجھ سے قطع تعلق کرتے ہیں۔اگر حُسن سلوک کروں تو بدسلوکی سے پیش آتے ہیں اور اگر میں اُن کے حق میں بُرد باری سے کام لوں تو وہ میرے خلاف جہالت یعنی اشتعال انگیزی کا رویہ اختیار کرتے ہیں آپ نے یہ سُن کر فرمایا جیسا تو نے کہا ہے اگر تو ایسا ہی ہے تو تو ان کے منہ میں مٹی ڈالتا ہے یعنی تیرا ہاتھ اوپر ہے تیرا احسان اُن پر ہے اور جب تک تو اس حالت میں ہے اُن کے خلاف اللہ تعالیٰ تیری مدد کرتا رہے گا۔( حديقة الصالحين صفحہ 423-424) -4 روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدلہ لینے والا صلہ رحمی کرنے والا نہیں بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اُس سے رشتہ توڑا جائے تو وہ جوڑے۔( صحیح بخاری جلد سوم کتاب الادب باب 571 حدیث 929 صفحہ 370) 5۔عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہیں حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ ان کاموں کے بارے میں حضور کا کیا خیال ہے جو میں زمانہ جاہلیت میں کیا کرتا تھا جیسے صلہ رحمی ، غلام آزاد کرنا اور صدقہ دینا کیا اُن کا مجھے کوئی اجر ملے گا۔آپ نے فرمایا تم اپنے سابقہ بھلائیوں کے سبب ہی دولت اسلام سے مشرف ہوئے ہو۔“