حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 11 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 11

22 21 لوگوں نے حضرت اسامہ سے کہا ان دنوں کھجوروں کی قیمت بہت بڑھی ہوئی ہے آپ نے ایسا کر کے قیمت گرا دی فرمایا یہ میری والدہ کی فرمائش تھی اور وہ جس چیز کا مطالبہ کرتی ہیں اگر میرے بس میں ہو تو میں ضرور پوری کرتا ہوں۔طبقات ابن سعد جلد 4 صفحہ 71 بیروت 1957 ء) دوسرا واقعہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین آدمی جا رہے تھی کہ انہیں بارش نے آلیا چنانچہ وہ ایک پہاڑ کی غار میں چھپ گئے غار کے منہ پر پہاڑ کے اوپر سے ایک بہت بڑا پتھر آگرا اور وہ بند ہو کر رہ گئے۔چنانچہ وہ آپس میں کہنے لگے کہ کوئی ایسا نیک عمل دیکھو جو تم نے محض رضائے الہی کے لئے کیا ہو اور اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے دُعا کر وشائد یہ مشکل آسان ہو جائے۔چنانچہ اُن میں سے ایک نے کہا اے اللہ میرے والدین زندہ تھے اور انتہائی بڑھاپے کی عمر کو پہنچے ہوئے تھے نیز میرے چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے میں اُن کے لئے بکریاں چرایا کرتا تھا جب میں شام کو واپس لوٹتا تو بکریاں دوہتا اور اپنے بچوں سے پہلے اپنے والدین کو دُودھ پلایا کرتا تھا ایک روز جنگل میں دُور جا نکلا اور شام کو دیر سے واپس لوٹا وہ اس وقت سو چکے تھے میں حسب معمول دُودھ لے کر اُن کے سرہانے آ کھڑا ہوا میں نے نیند سے بیدار کرنا پسند نہ کیا اور بچوں کو اُن سے پہلے پلا دینا بھی اچھا نہ لگا حالانکہ بچے میرے قدموں میں رو پیٹ رہے تھے حتی کہ صبح تک میری اور اُن کی حالت یہی رہی اے اللہ ! تو جانتا ہے اگر میں نے یہ کام تیری رضا کے لئے کیا تو اس پتھر کو ہٹا دے تاکہ ہم آسمان کو تو دیکھیں پس اللہ تعالیٰ نے اُسے تھوڑا سا ہٹا دیا کہ اس میں سے انہیں آسمان نظر آنے لگا باقی دو نے بھی اپنی اپنی نیکیوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ ہم نے محض اللہ کی رضا کے لئے کیا اے اللہ ! جتنا راستہ بندرہ گیا ہے اُسے کھول دے پس اللہ تعالیٰ نے اُن کے سامنے سے پتھر ہٹا دیا۔( صحیح بخاری کتاب الادب باب 560 صفحہ 336-337) حضرت اقدس مسیح موعود کا والدین سے حسن سلوک حضرت یعقوب علی عرفانی صاحب بیان کرتے ہیں بارہا دیکھا گیا کہ جب کبھی آپ والدہ صاحبہ کا ذکر کرتے تو آپ کی آنکھیں ڈبڈبا آتی تھیں اور آپ ایک قادرانہ ضبط سے اس اثر کو ظاہر نہ ہونے دیتے تھے۔(حیاتِ احمد صفحہ 347) حضرت صاحب جب والد صاحب کی خدمت میں جاتے تو نظر نیچے ڈال کر چٹائی پر بیٹھ جاتے تھے آپ کے سامنے کرسی پر نہیں بیٹھتے تھے۔(حیاتِ احمد صفحہ 345) آپ اپنے والدین کے نہایت فرمانبردار تھے اس لئے والد صاحب کا حکم نہ ٹالتے تھے اپنے والد صاحب کے حکم کے ماتحت ان کی زمینداری مقدمات کی پیروی میں لگ گئے لیکن آپ کا دل اس کام میں نہ لگتا تھا بعض اوقات کسی مقدمہ میں ہار کر آتے تو آپ کے چہرے سے بشاشت کے آثار ہوتے اور لوگ سمجھتے کہ شائد فتح ہو گئی ہے پوچھنے پر معلوم ہوتا کہ ہار گئے ہیں وجہ دریافت کرنے پر فرماتے منشائے الہی یہی تھا اور اس مقدمہ کے ختم ہونے سے فراغت تو ہو گئی یاد الہی میں مصروف رہنے کا موقع ملے گا والد صاحب چاہتے کہ آپ یا تو زمینداری کے کام میں مصروف ہوں یا کوئی ملازمت اختیار کریں آپ ان دونوں باتوں سے متنفر تھے لیکن آپ اپنے والد کے حکم کے ماتحت اور ان کے آخری ایام کو جہاں تک ہو سکے با آرام کرنے کے لئے اس کام میں لگے ضرور رہتے تھے گو