حُسنِ اخلاق — Page 20
40 39 39 قال اللہ تعالیٰ ماتحتوں سے حُسنِ سلوک 1- ترجمہ: اور ان سے بھی جن کے تمہارے داہنے (النساء:37) ہاتھ مالک ہوئے۔قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم 1 - حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین باتیں جس میں ہوں اللہ تعالیٰ اُسے اپنی حفاظت اور رحمت میں رکھے گا اور اسے جنت میں داخل کرے گا۔پہلی یہ کہ وہ کمزوروں پر رحم کرے دوسری یہ کہ وہ ماں باپ سے محبت کرے۔تیسری یہ کہ خادموں اور نوکروں سے اچھا سلوک کرے۔( ترندی صفۃ القیامة ) 2۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کا خادم اُس کے پاس کھانا لے کر آئے تو اگر کسی وجہ سے اُسے پاس بٹھا کر نہ کھلا سکو تو کم از کم ایک دو لقمے تو اس کو کھانے کو دے دو کیونکہ اس نے یہ کھانا محنت کر کے تمہارے لئے تیار کیا ہے اس میں اس کا بھی حق ہے۔( بخاری جلد اول کتاب العتق باب 1600 حدیث 2376 صفحہ 929) 3- ابو مسعود کہتے ہیں کہ میں ایک دفعہ اپنے غلام کو مار رہا تھا کہ پیچھے سے آواز آئی جان لو۔جان لو۔مُڑ کر دیکھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اے ابو مسعود! جتنا قابو تمہیں اس غلام پر ہے اس سے زیادہ خدا کو تم پر ہے۔ابو مسعودؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نصیحت کا مجھ پر اتنا گہرا اثر ہوا کہ میں نے پھر کبھی کسی غلام کو نہیں مارا۔( ترمذی ابواب البر والصله باب ماجاء في ادب الخادم) -4- ہمام بن منبہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے یہ کوئی نہ کہے کہ اپنے رب کو کھانا کھلا ، اپنے رب کو وضو کروا۔اپنے رب کو پلا بلکہ میرا سردار اور میرا آقا کہنا چاہیے۔اور تم میں کوئی عبدی یا امتی نہ کہے بلکہ میرا خادم، میری خادمہ اور میرا غلام کہنا چاہیے۔“ ( صحیح بخاری جلد اول کتاب العتق حدیث 2372 صفحہ 928) واقعہ نمبر 1 حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے اچھے اخلاق کے مالک تھے ایک بار آپ نے مجھے کسی کام کے لئے بھیجا میں نے کہا میں نہیں جاؤں گا لیکن دل میں میرے یہ تھا کہ میں ضرور جاؤں گا کیونکہ حضور حکم دے رہے ہیں بہر حال میں چل پڑا اور بازار میں کھیلتے ہوئے بچوں کے پاس سے گزرا اور اُن کے پاس کھڑا ہو گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پیچھے سے میری گردن پکڑ لی میں نے مڑ کر آپ کی طرف دیکھا تو آپ ہنس رہے تھے۔آپ نے فرمایا انس! جس کام کی طرف میں نے تجھے بھیجا تھا وہاں گئے۔میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ہاں ابھی جاتا ہوں۔انس کہتے ہیں خدا کی قسم ! میں نے نو سال تک حضور کی خدمت کی مجھے علم نہیں کہ آپ نے کبھی فرمایا ہو کہ تو نے یہ کام کیوں کیا یا کوئی کام نہ کیا تو آپ نے فرمایا ہو کہ تم نے یہ کام کیوں نہیں کیا۔(مسلم كتاب الفضائل باب كان رسول الله احسن الناس خلقا)