ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 809 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 809

زنم 809 آہستہ آہستہ پھول کر بڑے ہو جائیں اور آنکھوں میں رفتہ رفتہ سرخی بڑھنے لگے اور مزمن ہو جائے، اس کے ساتھ اندرونی علامتیں بھی ظاہر ہونے لگیں اور نظر دھندلا جائے اور بصری اعصاب متاثر ہوں تو ان تکالیف میں زنک بہت کارآمد ثابت ہو گا۔زنکم سلف سفید موتیا کی بہترین دواؤں میں سے ہے۔میں نے ایک نوے سالہ بوڑھے مریض کو جس کی آنکھوں میں سفید موتیا کی علامتیں ظاہر ہو کر کافی آگے بڑھ چکی تھیں، ایک لاکھ طاقت میں زنکم سلف کی ایک خوراک دی۔اس مریض کو ایک سرجن نے میرے پاس بھجوایا تھا کہ اس عمر میں ہم اس کا اپریشن نہیں کر سکتے۔زنکم سلف کی ایک لاکھ طاقت کا یہ حیرت انگیز اثر میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھیں چند مہینے کے اندر شیشے کی طرح شفاف ہو گئیں۔بعد ازاں وہ کئی سال زندہ رہا لیکن اس کی وفات تک اسے یہ تکلیف نہ ہوئی۔آنکھ میں پیدا ہونے والے وہ تمام مادے جو نظر کو دھندلا دیتے ہیں یا جم کر موتیا کی طرح شکل اختیار کر لیتے ہیں، ان سب میں زنک اچھی دوا ہے۔لیکن اگر مرض نصف سے آگے بڑھ چکا ہو اورسختی کی طرف مائل ہو تو اس وقت زنک دینے کی بجائے آپریشن کروالینا ہی بہتر ہے کیونکہ اگر موتیا میں سختی شروع ہو چکی ہو تو زنک دینے سے وہیں رک جائے گا اور مریض نہ اپریشن کے قابل ہو سکے گا نہ اس کی بینائی ٹھیک ہوگی۔لہذا ایسے مریض کو موتیا پکنے ہی دینا چاہئے تا کہ جلد آپریشن کے ذریعہ اسے اس جھنجٹ سے نجات ملے۔زنک کے ساتھ کلکیر یا فلور 6x میں کھلانا بہت مفید رہتا ہے۔اسی طرح آنکھ میں انے کے لئے Cineraria Maritima Sussex کا لوشن بہت فائدہ مند ہے۔دن میں تین بار اس کا ایک ایک قطرہ ماؤف آنکھ میں پڑکا یا جائے تو افاقے کی رفتار اور بھی تیز ہو جاتی ہے۔روز مرہ کے طور پر زنکم سلف 200 ہفتہ میں ایک دو بار استعمال کروانا چاہئے۔اگر CM طاقت میں دیا جائے تو مہینے سے پہلے اسے نہیں دہرانا چاہئے۔اور اگر دہرانا بھی ہوتو ایک دفعہ دے کر بند کر دیں۔اگر آنکھ میں سفید سی جھلی پھیلنے لگے تو زنک کی دوسو طاقت بہت فائدہ دیتی ہے۔