ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 785
سلفر 785 سلفر کے مریض کو سر درد بہت ہوتا ہے جس کا دورہ ہفتہ میں ایک دفعہ تو ضرور پڑتا ہے۔اسے گرمی پہنچانے سے آرام آتا ہے حالانکہ سلفر کی عمومی تکلیفیں گرمی سے بڑھتی ہیں، خاص طور پر بستر میں گرم ہونے سے اور کمرے کی گرمی سے لیکن سر در دکو گرم کمرے میں آرام ملتا ہے۔اسی طرح گرم نکور سے بھی فائدہ پہنچتا ہے۔آنکھوں کے سامنے چنگاریاں اور شعلے ناچتے ہیں۔کبھی سر او پر اٹھانے سے تارے نظر آنے لگتے ہیں۔مختلف قسم کے رنگوں کے دھبے بھی دکھائی دیتے ہیں۔عام طور پر سر درد شروع ہونے سے پہلے ایسا ہوتا ہے۔اگر شروع میں سلفر دے دی جائے تو سر درد ہو گا ہی نہیں۔ہر قسم کے ایگزیما اور خارش میں بھی سلفر مفید ہے۔پرانے نزلہ، زکام میں اور ناک سے آنے والی بد بو میں بھی یہ فائدہ مند ہے۔یہ ایسی بد بو ہوتی ہے جسے مریض خود بھی محسوس کرتا ہے جبکہ اکثر اپنی بد بو کوخود محسوس نہیں کرتا۔اگر دائیں طرف شدید قسم کا اعصابی درد ہو تو اس میں بھی سلفر کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔اگر ہونٹ کٹے پھٹے ہوں اور ان میں زخم بنتے ہوں تو سلفر بھی بالکل دواؤں میں سے ایک ہے غدودوں میں سوزش پیدا ہو جو مستقل ہو جائے اور گلے میں سلسلہ وار دائیں بائیں گلٹیاں بنے لگیں تو سلفر بھی دوا ہوسکتی ہے۔مسوڑھے خراب ہو جائیں اور دانت ڈھیلے ہوکر لٹکنےلگیں تو بھی اگر سلفر مزاجی دوا ہو تو اس کا ازالہ کر سکتی ہے مگر صرف ایک دانت میں تکلیف ہو تو سلفر کی بجائے کوئی اور دوا تلاش کریں۔پیٹ کی ہواؤں میں بہت سی دوائیں اچھا اثر دکھاتی ہیں لیکن معین دوا کی تلاش بہت مشکل ہے۔اگر کوئی اور دوا کام نہ کرے تو سلفرمفید ہوسکتی ہے خصوصاًبد بودار ہوا میں۔سلفر ہیضہ کی ایک بہت اہم دوا ہے۔اگر ہیضہ کی وبا پھیلی ہو تو حفظ ما تقدم کے طور پر کثرت سے سلفر استعمال کروانی چاہئے۔چند روز 200 طاقت میں دن میں ایک دفعہ سلفر