ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 781
سلفر 781 سلفر میں تقریباً ہر قسم کی جلدی امراض ملتی ہیں مثلاً چھالے، خشک خارش ، تر خارش، جلد پر خشکی سے ایسے چھلکے بن بن کر اترنا جیسے مچھلی کی جلد پر ہوتے ہیں، خارش سے خون بہنے کا رجحان، مختلف قسم کے پھوڑے پھنسیاں غرضیکہ ہر قسم کی جلدی امراض جن میں جلن کی علامت نمایاں ہو اور دوسری علامتیں بھی ملیں تو ان میں سلفر اکثر فائدہ دے گی۔جلدی امراض میں سلفر کی پوری علامتیں نہ بھی ہوں تو بھی بیماری کو نتھار کر اصل کو سامنے لے آتی ہے۔سر کی چوٹی ، آنکھوں، چھاتی اور دونوں کندھوں کے درمیان جلن ہوتی ہے۔بعض اوقات جسم سے آگ کے شعلے نکلتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔بواسیر کے مسوں، چھالوں، معدہ اور گلے میں بھی جلن کا احساس ہوتا ہے۔پیشاب بھی جلتا ہوا آتا ہے ، بعد میں دیر تک جلن محسوس ہوتی رہتی ہے۔مریض کے پاؤں رات کو جلتے ہیں اور وہ انہیں بستر سے باہر نکال کر ٹھنڈا کرنا چاہتا ہے۔اس پہلو سے یہ پلسٹیلا کے مشابہ ہے۔سلفر کے بعض مریض بہت بھوک محسوس ہونے کے باوجود تھوڑ اسا کھانے کے بعد ہی کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔یہ علامت سب سے زیادہ لائیکو پوڈیم میں پائی جاتی ہے۔سلفر کی امتیازی علامت یہ ہے کہ مریض کی صبح کی بھوک بالکل غائب مگر گیارہ بجے معدہ میں سخت کمزوری محسوس ہوتی ہے۔کھر چن اور نیچے گرنے کا احساس ہوتا ہے۔فوری کھانے کی طلب اتنی شدید ہوتی ہے کہ ذرا بھی انتظار دوبھر ہوتا ہے حتی کہ بھوک سے غشی کا دورہ بھی پڑ سکتا ہے لیکن صبح اٹھنے کے بعد گیارہ بجے تک بھوک غائب رہتی ہے۔سلفر کی علامات میں یہ بھی داخل ہے کہ جلد بہت حساس ہوتی ہے اور ذراسی رگڑ لگنے سے بھی زخم بن جاتے یا گٹے پڑ جاتے ہیں۔سلفر چنبل کی بہترین دواؤں میں سے ہے۔مگر محض اس پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔سلفر کے مریضوں کا veinous System یعنی نیلے سیاہی مائل خون کی رگوں کا نظام عموماً خراب ہوتا ہے۔بواسیر کا مرض اور تکلیف دہ مسوں کا ہونا سلفر کی ایک عام علامت ہے۔بواسیر کے ایسے مریضوں کی علامتیں سلفر دینے سے ابتدا میں بڑھ جاتی ہیں