ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 746 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 746

سیپیا 746 جائے تو دوران حمل اور وضع حمل کے بعد کئی قسم کی بیماریاں ظاہر ہوتی ہیں جن کے ساتھ جگر کی خرابی بھی ضرور پائی جاتی ہے۔ایسی صورت پاگل بھی ہو جاتی ہے اور ہر اس چیز سے جو اچھی لگنی چاہئے نفرت کرنے لگتی ہے۔اس نفرت اور بے تعلقی کی وجہ سے وہ خوفزدہ بھی ہوتی ہے اور اس خوف کے نتیجہ میں بیماری مزید بڑھتی جاتی ہے۔سپیا کی ایک اور بہت نمایاں علامت یہ بتائی جاتی ہے کہ مریضہ کے ناک پر کالے رنگ کی کاٹھی سی بن جاتی ہے جیسے پرندے کے دو پر ہوں۔میں نے بھی دوسرے ہومیو پیتھک ڈاکٹروں کی طرح صرف اسی علامت کو مد نظر رکھ کر بہت سے مریضوں کو سپیا دی لیکن کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔یہ نشان اکثر جگر کی خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔اگر سپیا کا مزاج ہو اور جگر خراب ہو تو پھر سپیا فائدہ دے گی ورنہ جگر کی کوئی دوسری دوا ڈھونڈنی پڑے گی۔ایسی حساس عورت جس کے جذبات منجمد ہو گئے ہوں اور اس کے چہرے اور ناک پر داغ ہوں تو اس کے علاج میں سیپیا فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔جگر کی خرابی بڑھتے بڑھتے یرقان پر منتج ہوتی ہے۔بعض عورتوں کے چہرہ پر حمل کے دوران چھائیاں پڑ جاتی ہیں اور چہرہ بے رونق نظر آتا ہے۔سپیا میں بغیر حمل کے بھی یہ علامتیں ظاہر ہوتی ہیں۔بھورے رنگ کے مسے بھی نکلتے ہیں اور ان میں کالے کالے دھبے بننے لگتے ہیں۔یہ علامت خاص طور پر سپیا سے تعلق رکھتی ہے۔جسم پر سفید یا ہلکے بھورے رنگ کے گول گول دھبے پڑ جاتے ہیں جن کا جگر کی خرابی سے تعلق ہے۔ہومیو پیتھی اصطلاح میں انہیں Liver Spots کہا جاتا ہے۔اگر یہ بھورے یا پیلے رنگ کے ہوں تو فاسفورس اور سیپیا مفید ہیں اور سفیدی مائل ہوں تو مرکسال یا کلکیر یا وغیرہ مفید ہوں گی۔سپیا میں قبض کا بھی رجحان ہے جو حمل کے دوران بڑھ جاتا ہے۔فضلہ خارج کرنے کی طاقت کم ہو جاتی ہے۔ایسی عورت وضع حمل کے وقت بھی دقت محسوس کرتی ہے کیونکہ عضلات کی بالا رادہ حرکت میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے اور پوری طاقت کے ساتھ بچہ کو باہر دھکیلنے کی صلاحیت نہیں رہتی۔سپیا کی علامتیں ہوں تو اس کے دینے