ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 745 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 745

سپیا 745 172 سپییا SEPIA (Inky Juice of Cuttle Fish) سپی عموماً ایسی خواتین کی دوا سمجھی جاتی ہے جو د بلی پتلی ہوں اور ان کے کو لہے تنگ اور جسم کی ساخت میں قدرے سختی پائی جاتی ہو لیکن یہ لازم نہیں ہے کہ عورت کی یہی جسمانی تصویر ہو تو وہ سپیا کی مریضہ ہوگی۔سپیا بنیادی طور پر جگر اور رحم کی خرابیوں سے تعلق رکھنے والی دوا ہے۔جب ان بیماریوں کی علامات ظاہر ہونے لگیں تو خواہ مریضہ کے جسم کی ساخت مذکورہ بالا نہ بھی ہو،اسے پھر بھی سپیا دی جاسکتی ہے۔دوا تجویز کرتے ہوئے جسمانی علامات پر زور دینے کی بجائے گہری اندرونی مزاجی علامتوں کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔سپیا دراصل اپنے خاص مزاج سے پہچانی جاتی ہے جس میں یہ بات شامل ہے کہ عورتوں میں طبعی جنسی رجحان مٹ جاتا ہے اور پیار اور محبت کے جذبات ختم ہو جاتے ہیں۔یہاں تک کہ ایک پیار کرنے والی ماں اچانک مامتا کے جذبات سے عاری دکھائی دیتی ہے۔اپنے خاوند سے قطعاً بے نیاز اور بے تعلق ہو جاتی ہے۔رفتہ رفتہ اس کے تعلقات کے دائرے محدود ہونے لگتے ہیں اور اس میں خود کشی کا رجحان بھی پیدا ہو جاتا ہے اور عورت نیم پاگل سی ہو جاتی ہے۔یہ کیفیات دراصل لمبے عرصہ تک اندر ہی اندر تکلیفیں برداشت کرتے رہنے سے پیدا ہوتی ہیں۔اس عرصہ میں دیکھنے والوں کو کچھ معلوم نہیں ہوتا لیکن یہ دباؤ بڑھتا چلا جاتا ہے اور اچانک لاوے کی طرح پھوٹتا ہے اور وہ سپیا کی مریضہ بن جاتی ہے۔خاوند اور بچوں کی طرف توجہ نہ کرنا اس بڑھتے ہوئے دباؤ کا طبعی نتیجہ ہے۔گویا مریضہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ چکی ہے یہاں تک کہ ہر چیز سے بیزار ہو جاتی ہے۔سپیا کے مریض کا جگر سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔رحم میں کوئی نقص پیدا ہو