ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 737
737 علاج کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی عضو کاٹنا نہیں پڑا۔جبکہ ڈاکٹروں نے قطعی طور پر اسے گینگرین قرار دے دیا تھا اور سرجری پر مصر تھے۔جب ایسا مریض صحت یاب ہونے لگتا ہے تو سب سے پہلے زخم کی رنگت بدلتی ہے اور سیاہی کی بجائے اس پر سرخی آنے لگتی ہے۔کینگرین میں سیکیل اور آرسنک دونوں بہت مفید دوائیں ہیں۔اگر آرنیکا بھی ساتھ ملا کر دی جائے تو اثر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔سیکیل میں ہر جگہ جلن کا احساس بہت نمایاں ہوتا ہے۔نزلہ، گلے کی خرابی اور سانس کی تکلیف میں بھی جلن پائی جاتی ہے۔سیکیل میں ہر سیلان خون میں خواہ وہ رحم سے جاری ہو یا ناک سے یا کسی اور زخم سے، سیاہی بہت نمایاں ہوتی ہے۔سیکیل کے دائرہ میں آنے والی ہر بیماری کا وریدوں کے خون کے گندا ہونے سے تعلق ہے۔ایسے مریض جوموت کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہوں اگر ان کا سارا نظام خون گندہ اور سیاہ ہو چکا ہو تو سیکیل کو اس حوالے سے یا درکھنا چاہئے۔سیکیل عورتوں کے اندرونی امراض میں بھی بہت مفید ہے۔رحم میں زخم بن جاتے ہیں اور مسلسل خون جاری رہتا ہے جو سیاہ رنگ کا ہوتا ہے۔مہینہ میں چند دن کے لئے خون رکے تو سیاہی مائل گندے پانی کا اخراج ہوتا ہے جس میں نا قابل برداشت بو ہوتی ہے۔سیاہ بد بودار خون کے لوتھڑے نکلتے ہیں جن میں تعفن پایا جاتا ہے۔سیکیل ان عوارض میں کام آنے والی ایک بہت اہم دوا ہے خصوصاً اگر رحم میں گینگرین بننے کا خطرہ ہو۔سیکیل کی علامتوں والی عورتوں میں اگر حمل ضائع ہونے کا بھی رجحان ہو تو سکیل اس رجحان کا قلع قمع کرنے کے لئے کافی ہے۔ایک دوہ ماہ کے استعمال سے رحم کی کایا پلٹ جاتی ہے اور وہ مضبوط اور توانا ہو کر بچے کا بوجھ برداشت کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔اگر وضع حمل کے وقت رحم بیچے کو باہر دھکیلنے کی کوشش کرے مگر غم رحم میں سخت اینٹھن کی وجہ سے بچہ پیدا نہ ہو سکے تو ایسی مریضہ کا سیکیل سے فوری علاج کرنا انتہائی ضروری ہے ورنہ اگر سر جن مہیا ہو تو فوری اپریشن کرنا پڑے گا یا پھر وہ مریضہ سخت اذیت