ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 677 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 677

677 تعلق ہے۔رسٹاکس بھی فالج کے بسرعت ظاہر ہونے والے اثرات میں بہت اچھی دوا ہے۔اگر جلد استعمال کی جائے تو فوری فائدہ دیتی ہے۔لیکن اگر دیر ہو جائے تو سلفر کے بغیر پورا فائدہ نہیں دیتی کیونکہ رسٹاکس نسبتاً کم گہری اور مزمن دوا ہے۔ہاں سلفر کے ساتھ ادلنے بدلنے پر اس کی طاقت بڑھ جاتی ہے۔پلمبم اس کے مقابلہ پر زیادہ گہری اور مزمن ہے۔میں رسٹاکس کو سلفر کے ساتھ ادل بدل کر دیتا ہوں کیونکہ سلفر دفاعی رد عمل کو جگا دیتی ہے اور رسٹاکس فالجی اثرات کو دور کرتی ہے۔اس نسخہ سے پولیو کے بہت پرانے مریضوں کو بھی اللہ کے فضل سے بہت نمایاں فائدہ ہوا۔رسٹاکس کا فالج سے بہت گہرا تعلق ہے۔ہومیوڈاکٹر عموماً پرانے فالجوں میں رسٹاکس کو استعمال نہیں کرتے حالانکہ یہ بہت کارآمد دوا ہے۔شرط یہ ہے کہ سلفر سے ادل بدل کر دیں۔فلم کے مریض کی قبض بہت سخت ہوتی ہے۔اجابت گول شکل میں ہوتی ہے جس کا اخراج بہت مشکل سے ہوتا ہے۔کئی دفعہ زخم بن جاتے ہیں اور فضلہ نکالنے کے لئے آلات استعمال کرنے پڑتے ہیں۔اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ انتڑیوں کے گرد بار یک عضلات کی جھلی ماؤف ہو جاتی ہے اور انتڑیوں میں فضلہ کو آگے دھکیلنے کی طاقت نہیں رہتی۔یہ فالجی کیفیت آہستہ آہستہ بڑھتی ہے اور قبض گہری اور پرانی ہوتی جاتی ہے۔ایسی قبض میں صبر کے ساتھ کچھ عرصہ تک پہم دیتے رہنا چاہئے۔دس پندرہ دن کے اندر پورا اثر ظاہر ہوگا کیونکہ ایسی بیماریاں جو آہستہ آہستہ آتی ہیں ان کا علاج بھی نسبتا آ ہستگی سے ہوتا ہے۔لیکن بعض اثرات فوری بھی ہوتے ہیں مثلاً پیٹ میں مروڑ اور شیخ ہو تو فوری اثر دکھائے گی۔زہر کے وہ اثرات جو فوراً پیدا ہوں ہومیو پیتھک طریق پر اسی زہر کی ہو میو طاقت سے فوری طور پر دور ہو سکتے ہیں۔پلمیم کے مریض کے مثانے میں بھی فالجی اثر کے تحت پیشاب دھکیلنے کی قوت کم ہو جاتی ہے اور پیشاب رک جاتا ہے اور مثانہ میں ہی اکٹھا ہوتا رہتا ہے پھر قطرہ قطرہ بہنے لگتا ہے۔اس بیماری کا تعلق پر اسٹیٹ سے نہیں بلکہ مثانے کے فالج سے ہے۔اس کی علامتیں مختلف ہیں۔ضروری نہیں کہ ایک ہی وجہ سے پیشاب بند ہو۔بچے کی پیدائش کے بعد پیشاب رکے تو