ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 653
فاسفورس 653 - فاسفورس کے مریض میں بھی پائی جاتی ہے مگر شاذ کے طور پر۔وہ اپنے مزاج کے صاف ستھرا ہونے کی وجہ سے بھی علیحدگی پسند ہو جاتا ہے لیکن اس میں تکبر نہیں پایا جاتا جبکہ پلاٹینم کے مریض میں تکبر بہت ہوتا ہے اور اسے یہ وہم ہوتا ہے کہ گویا وہ آسمان سے اترا ہوا ہے۔ہر ایک کو نیچی نظر سے دیکھتا ہے جبکہ فاسفورس کا مریض بہت ہمدرد اور نرم مزاج رکھتا ہے۔مزاج کی نفاست کی وجہ سے اس میں غیر معمولی زود حسی پیدا ہوتی ہے جو کئی بیماریوں کا موجب بھی بن جاتی ہے۔بعض دفعہ جب اکیلا ہو تو اس پر موت کا خوف طاری ہو جاتا ہے۔دماغ میں ہیجانی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔جسم میں کوئی چیز رینگتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔فاسفورس کی بہت بیماریوں میں گرمی سے فائدہ پہنچتا ہے لیکن معدہ اور سر میں سردی سے آرام آتا ہے چونکہ سر میں خون کا دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے اس لئے اگر مزید گرمی پہنچائیں تو تکلیف میں اضافہ ہو جائے گا۔فاسفورس اور بیلا ڈونا کے سردرد میں یہ فرق ہے کہ بیلاڈونا کا مریض لیٹے تو اس کو آرام آتا ہے۔فاسفورس کا مریض لیٹے تو اس کی تکلیف میں اضافہ ہو جاتا ہے۔اس لئے مریض اپنا سر اونچا کر کے لیٹتا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ لیٹنے سے خون کا دوران سر کی طرف اور بیٹھنے سے نیچے کی طرف ہوتا ہے۔بیلاڈونا میں تشنج کی وجہ سے سر میں درد ہوتا ہے۔فاسفورس کے سردرد میں تشیخ نہیں ہوتا۔معدہ کی تکلیف میں ٹھنڈی چیز سے آرام آتا ہے اور گرم چیز سے قے ہو جاتی ہے۔اگر بچے کو دودھ پلائیں تو پیٹ میں جا کر دودھ گرم ہونے پر اس کی قے ہو جاتی ہے یہ ایتھوزا سے ملتی جلتی علامت ہے۔اعصابی ریشوں کے ساتھ فاسفورس کا بہت تعلق ہے۔یہ آنکھ کے بصری نظام پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔اسی لئے طرح طرح کے رنگ دکھائی دیتے ہیں۔شمع کے گر دسبز رنگ کا ہالہ نظر آتا ہے۔سرخ اور کالے دھبے بھی دکھائی دیتے ہیں۔اگر کسی صدمے سے کوئی اچانک اندھا ہو جائے تو بھی فاسفورس کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔فاسفورس گنجے پن اور سکری یعنی بالوں میں خشکی کا بھی علاج ہے۔ان بیماریوں میں