ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 546 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 546

546 میں بھی اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھتے ہیں۔ان کی جلد سیاہی مائل ہو جاتی ہے،اخراجات میں بد بو پائی جاتی ہے لیکن لیکیس میں یہ علامتیں نہیں ہوتیں اس میں کسی بوجھ، اچانک پریشانی یا ویسے ہی کبھی کبھی مریض میں کمزوری سے اس کا بدن یک دم ٹھنڈا ہو جاتا ہے لیکن سرگرم ہی رہتا ہے۔اس وقت لیکیسس کام آتی ہے۔لیکیس میں بیماری کا حملہ عموماً بائیں طرف ہوتا ہے لیکن بیماری یہاں ٹھہرتی نہیں بلکہ کچھ عرصہ زور دکھا کر دائیں طرف منتقل ہو جاتی ہے۔یہ بہت واضح علامت ہے۔اگر اس کے ساتھ سونے سے تکلیف میں اضافہ بھی ہو جائے تو بلا جھجک لیکلیس استعمال کروانی چاہئے۔عورتوں کے بیضہ الرحم (Ovaries) کی تکلیفوں میں بھی لیکیس بہت مفید دوا ہے۔اگر بائیں طرف کے بیضہ الرحم میں تکلیف کا آغاز ہو اور دائیں طرف منتقل ہو جائے تو اس میں لیکیس بہت اچھی ثابت ہو گی۔اگر دائیں بیضہ الرحم میں تکلیف ہو تو لائیکو پوڈیم اور ٹیرنٹولا بہت مفید ہے۔لیکیس میں گلے کی تکلیف بائیں طرف سے شروع ہو کر دائیں طرف منتقل ہو جاتی ہے جبکہ لائیکو پوڈیم میں دائیں سے بائیں طرف بیماری حرکت کرتی ہے۔پلسٹیلا میں درد کی لہریں ادھر سے ادھر حرکت کرتی ہیں جبکہ امراض کی دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں حرکت ایک کٹا ئیلیم میں بہت نمایاں ہے۔بلیس میں سردرد بھی ہمیشہ بائیں طرف سے شروع ہوتا ہے اور گدی تک پھیل جاتا ہے کنپٹی پر بہت دباؤ ہوتا ہے اور جبڑا بھی متاثر ہوتا ہے۔جلسیمیم بھی اس قسم کے سر درد کے حملوں میں بہت مفید ہے لیکن اس میں در دسر کے پیچھے کندھوں میں اترتا ہے اور پیٹھ کے عضلات تک پھیل جاتا ہے۔صرف گدی کے ایک طرف ہی محدود نہیں رہتا۔لیکیس میں ایک خاص علامت یہ ہے کہ اس کی تکلیفیں اوپر کے دھڑ سے نچلے دھڑ میں منتقل ہوں تو سمت تبدیل کر لیتی ہیں۔مثلاً اگر بائیں طرف دل کے پاس درد ہو اور دباؤ محسوس ہو تو یہ تکلیف دائیں طرف کو لہے میں یا بن ران میں منتقل ہوسکتی ہے اور بعض دفعہ بیک وقت دونوں سمتوں کو ماؤف کر دیتی ہے۔بسا اوقات سر سے لے کر پاؤں