ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 547 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 547

547 تک بیماری بائیں طرف ہی رہتی ہے، خصوصاً فالج میں ایسے ہوتا ہے لیکن دردوں کے احساس اور عضلات کے تناؤ میں اوپر کے بائیں طرف کے دھڑ اور نیچے کے دائیں طرف کے دھڑ میں علامتوں کا موجود ہونا یکیس کا خاص نشان ہے۔لیکیس کی منہ کی علامتوں میں زبان کا سوج کر موٹا ہونا اور ہونٹوں کا بے حس ہونا شامل ہے۔اس صورت میں لفظوں کی ادائیگی مشکل ہو جاتی ہے۔اگر اس قسم کی علامات کسی مریض میں ظاہر ہوں، سرگرم رہتا ہو اور جسم پر جامنی رنگ کے داغ بھی پڑ جاتے ہوں تو لیکیس ہی دوا ہے۔دراصل زبان کا موٹا ہونا اور ہونٹوں کی بے حسی منہ اور گلے کے اندر فالجی علامتیں پیدا ہونے کا آغاز ہے۔اگر اسے بروقت قابو نہ کیا جائے تو زبان اور گلے پر فالج گر سکتا ہے۔اس لئے ایسے مریض کو فوری طور پر پیلیس دینی چاہئے۔لیکیس کی ایک اور علامت جو نمایاں طور پر ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ گلے میں جکڑن کا احساس ہوتا ہے اور کالر برداشت نہیں ہوتا۔یہ علامت گلو نائن میں بھی ملتی ہے۔حتی کہ گلونائن کے مریض کے سر میں بھی جکڑن کا احساس ہوتا ہے اور ٹوپی تک برداشت نہیں ہوتی۔اگر گلے میں پھندہ پڑنے کا احساس زیادہ سخت ہو تو غالبا یہ ہائیڈرو نیم کا تقاضا کرتا ہے لیکیسس میں گلے کے اندرتنگی اور جکڑن کا احساس ہوتا ہے لیکن مریض یہ فرق نہیں کر سکتا کہ تکلیف گلے کے اندر کی طرف ہے یا ہر کی طرف ہائیڈ ریو یتیم اور بائیوکس میں تھے کی نالی کے اعد تشیع ہوتا ہے لیکن نیکلیس میں گلے کے اندر کی نالی میں تشنج نہیں ہوتا بلکہ گلے کے گرد کوئی بھی چیز برداشت نہیں ہوتی۔لیکیس کے مریض خطر ناک قسم کے شکوک وشبہات میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔شروع شروع میں وہ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ سب لوگ ان کے خلاف باتیں کر رہے ہیں یا ان کے کھانے پینے میں کچھ ملا دیا گیا ہے۔وہ اپنے قریبی عزیزوں پر بھی شک کرتے ہیں۔بعد میں یہ علامتیں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ایسے مریضوں کو لیکیس دینا ضروری ہے۔میرا تجربہ ہے کہ گو شروع شروع میں کچھ فائدہ ضرور ہوتا ہے لیکن بعد میں یہ اس مرض میں