ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 480
آئرس ٹینکس 480 بعض دفعہ خوشی سے بھی بدل جاتا ہے لیکن پاگل پن کی علامتیں نہیں ہوتیں۔موڈ بدل جاتا ہے۔کبھی بشاشت محسوس کرتا ہے کبھی اداس ہو جاتا ہے۔آدھی رات کو اداسی بڑھ جاتی ہے۔کنپٹیوں میں درد ہوتا ہے۔سر کی جلد میں جلن اور خارش ہوتی ہے۔یہ عام خارش نہیں ہے بلکہ جلن کے ساتھ عارضی طور پر ہوتی ہے۔یہ کوئی مستقل بیماری نہیں ہے۔سر درد عموماً دائیں آنکھ پر اپنا مقام بناتا ہے۔ہفتہ میں ایک دفعہ سردرد کا دورہ ہوتا ہے۔کھٹی سبز رنگ کی قے آتی ہے۔آنکھوں میں بھی خارش ہوتی ہے۔چھن اور جلن کا احساس ہوتا ہے۔بائیں طرف کے اوپر کے دانت میں درد ہوتا ہے۔میرے خیال میں مذکورہ علامات کے ساتھ کسی بھی دانت میں درد ہو تو اسے استعمال کرنا چاہئے۔آئرس ٹینکس میں اسہال بھی ہوتے ہیں۔پیٹ کے نچلے حصہ میں درد اور شیخ ہوتا ہے۔چونکہ اس دوا کا دائیں طرف سے نسبتاً زیادہ تعلق ہے اس لئے یہ انڈیکس کے لئے بھی بہترین دوا ہے۔ڈاکٹروگ نے کہیں بھی اپنڈیکس کا ذکر نہیں کیا لیکن ان کے بعد اس دوا کی علامتوں کو پیش نظر رکھ کر بہت سے ایسے تجارب ہوئے جن سے اس دوا کو انڈیکس میں بہت مفید پایا گیا۔میں نے آئرس ٹینکس کو آرنیکا اور برائیو نیا کے ساتھ 200 طاقت میں ملا کر اپنڈیکس کی تکلیفوں میں بارہا استعمال کیا ہے اور یہ بے حد مفید نسخہ ثابت ہوا ہے اور حیرت انگیز اثر دکھاتا ہے۔اگر تشنجی علامات نمایاں ہوں تو برائیونیا کی بجائے بیلا ڈونا استعمال کرنی چاہئے۔بسا اوقات اپینڈیکس کی وجہ سے بہت خطرناک صورت حال پیدا ہو جاتی ہے اور یہ تکلیف پیچیدگی اختیار کر لیتی ہے۔یہ تینوں دوائیں مل کر اس صورت حال پر قابو پالیتی ہیں۔مجھے اکثر اپنڈیکس کی تکلیف ہوا کرتی تھی۔اس نسخہ سے میں ٹھیک ہو جاتا تھا۔ایک دفعہ میں سفر میں تھا۔آغاز سے ہی تکلیف کا احساس ہونے لگا۔میں نے یہ تینوں دوائیں استعمال کیں۔سفر میں ایک رات گزاری اور اگلے روز خود چار سو میل موٹر چلا کر کراچی پہنچا۔درد قابو میں رہا۔اگلے روز صبح مجھے ہسپتال لے جایا گیا۔جب سرجن نے میرا معائنہ کیا تو حیرت زدہ رہ گیا کہ اپنڈیکس جگہ جگہ سے