ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 481 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 481

آئرس ٹینکس 481 پھٹ چکا تھا اور پیپ بہہ رہی تھی۔ایسی خطرناک حالت تھی کہ بظاہر میرا زندہ رہنا اور پھر چار سو میل موٹر چلا کر ایسی حالت میں وہاں پہنچنا سر جن کے لئے ناقابل فہم تھا۔اس کے بعد میرا اپریشن تو ہوا لیکن میں نے پنسلین کی بجائے اندر مال زخم کے لئے ہو میو پیتھک جراثیم کش دوائیں ہی استعمال کیں۔ہومیواطباء اور مریضوں کو میرا مشورہ یہی ہے کہ ان تینوں دواؤں پر اتنا انحصار نہ کریں کہ باوجود اپریشن کی ضرورت کے اسے ٹالتے رہیں۔اگر ایک دفعہ اپنڈیکس خراب ہو چکا ہو اور ہو میو پیتھک دواؤں سے اسے محض وقتی آرام ملتا ہوتو پھر اپریشن کروانا ہی بہتر ہے۔اینڈ ٹیکس کا دورہ دن یا رات کے کسی بھی وقت ہوسکتا ہے۔کتابوں میں عمومأرات کا وقت لکھا ہوا ہے لیکن میرا تجربہ ہے کہ وقت کی کوئی قید نہیں ہے۔آئرس ٹینکس میں دردیں دائیں طرف سے شروع ہو کر سارے پیٹ میں پھیل جاتی ہیں۔شدید قے کی طرف رجحان ہوتا ہے۔آئرس ٹینکس میں صبح کے وقت جاگنے پر اور کھڑے ہونے پر معدہ ڈوبنے کا احساس ہوتا ہے، پیٹ میں شدید درد جو دائیں سے بائیں حرکت کرتا ہے۔بسا اوقات رات کے وقت اسہال کی تکلیف ہوتی ہے اور آدھی رات کو شدید اسہال شروع ہو جاتے ہیں۔اگر معدہ میں تیزابیت زیادہ ہو جائے تو بار بار پیشاب آنے لگتا ہے۔کھلے پیشاب کے ساتھ جلن ہونے لگے اور بار بار حاجت ہو اور پیشاب کی رنگت نسواری ہو جائے تو یہ آئرس ٹینکس کی علامت ہے۔آرسنک اور نیٹرم فاس بھی اس تکلیف میں مفید ہیں لیکن ان کی اپنی دیگر علامات کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔نیٹرم فاس میں پیشاب کے رنگ میں کچھ پیلا ہٹ ہوتی ہے۔تیزابیت کے نتیجہ میں پیشاب کا پیلا ہو جانا اور دواؤں میں بھی ملتا ہے۔تیزابیت کی وجہ سے بار بار پیشاب آئے تو بہت کمزوری ہو جاتی ہے۔چلنا پھرنا دو بھر ہو جاتا ہے۔ایسے مریضوں کو آئرس ٹینکس دینی چاہئے۔آئرس ٹینکس کے مریض کو نیند نہیں آتی۔صبح دردوں میں کمی کے باوجود کمزوری کی وجہ سے اٹھنا مشکل ہو جاتا ہے۔طاقت: 30 سے 200 تک