ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 418
418 ٹیڑھی ہونے لگتی ہیں اور اسفنج کی طرح ہو جاتی ہیں۔یہ تکلیف عموماً کلکیریا کارب کی یاد دلاتی ہے لیکن اگر وجع المفاصل کا بھی رجحان ہو تو گائیکم بہت مفید دوا ہے۔گائیکم کی ایک اور علامت یہ ہے کہ مریض سخت تھکاوٹ محسوس کرتا ہے۔ہلکی سی حرکت سے بھی جسمانی کمزوری کا احساس ہوتا ہے جو بڑھتے بڑھتے اعصاب پر اثر انداز ہونے لگتی ہے اور پھر اس کمزوری کا احساس بدنی کمزوری پر منتج ہوتا ہے اور جسم سوکھنے لگتا ہے۔گانیکم سل کے ابتدائی مراحل میں بہت مؤثر دوا ہے۔اگر خون میں سلی مادے موجود ہوں اور وجع المفاصل کے ساتھ پھوڑے پھنسیاں نکلنے کا رجحان بھی ہو اور جسم میں دردیں ہوں تو گائیکم بہت مفید دوا ہے۔گائیکم اینٹی سورک (Antipsoric) دوا بھی ہے یعنی ایسی جلدی امراض میں جو سورائس (Psoriasis) اور کوڑھ وغیرہ سے تعلق رکھتی ہیں ان میں مفید ہے۔سلفر اور سورائینم بھی چوٹی کی اینٹی سورک دوائیں ہیں۔سلفر کا مزاج گرم ہوتا ہے جبکہ سورا ئینم کا مریض ٹھنڈا ہوتا ہے۔لیکن محض سلفر اور سورائینم ”سورا کی بیماریوں کی ہر قسم کو ٹھیک نہیں کر سکتیں۔جب یہ نزلاتی جھلیوں پر حملہ آور ہوں تو بہت سی اور دواؤں کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔اگر یہ ایگزیما کی شکل میں ظاہر ہوں تو اس کی قسموں کے مطابق تلاش کرنی پڑتی ہے۔اگر سورا‘ کی وجہ سے کوئی مرض ظاہر ہو اور اس کی دوا بظاہر پہچان لی جائے لیکن تھوڑے سے فائدہ کے بعد شفایابی رک جائے تو اس صورت میں لازماً اونچی طاقت میں کوئی اینٹی سورک دوائیں دینی پڑیں گی۔اگر براہ راست ان کی علامتیں موجود ہوں تو پھر یہ بھر پور فائدہ دیں گی مگر بسا اوقات ان کی براہ راست علامتیں نہیں ملتیں۔ایسی صورت میں یہ سورا" کے عمومی تریاق کے طور پر کام آئیں گی اور مرض سے ملتی جلتی دوسری دواؤں کے اثر کو تازہ کر دیں گی۔جلدی بیماریوں کی ایسی بہت سی قسمیں ہیں جو مزاجی دوا طلب کرتی ہیں۔اگر وہ دوائیں جو غور و خوض کے بعد چنی جائیں فائدہ نہ دیں تو پھر اینٹی سورک دواؤں کی لازماً ضرورت پڑتی ہے۔وہ بیماری کے مزاج کو نرم کر کے اثر قبول کرنے کے قابل بنا دیتی