ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 419
گائیکم 419 ہیں۔ایسی دواؤں میں سلفر اور سورائینم کے علاوہ مرک سال، ٹیوبرکولینم اور سیفلینیم بھی شامل ہیں۔اسی طرح گائیکم بھی ایک اینٹی سورک دوا ہے۔چہرے کے اعصابی دردوں سے بھی اس کا تعلق ہے۔گائیکم میں چہرے کے ایک طرف اعصابی درد ہوتا ہے جیسے چٹکی بھری گئی ہو۔یہ درد بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔سپائی جیلیا چہرے کے بائیں طرف کے اعصابی دردوں میں اور سلیشیا اور میگ فاس دائیں طرف کے دردوں میں بہت مفید دوا ئیں ہیں۔گائیکم میں آنکھیں متورم ہو جاتی ہیں۔پتلیاں پھیلی ہوئی اور پوٹے سکڑے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔آنکھ کے ارد گرد پھنسیاں نکلتی ہیں، کبھی کبھی کان میں بھی درد کے دورے پڑتے ہیں۔یہ درد کسی انفیکشن اور وبائی مرض کے نتیجہ میں نہیں ہوتا۔ظاہری طور پر کسی ورم اور سرخی کا نشان بھی نہیں ہوتا۔جب یہ درد ختم ہونے کے قریب ہوتا ہے تو سر میں بھی سوئی کی سی چھن محسوس ہوتی ہے۔اگر کسی مریض کو شدید بہنے والا نزلہ ہو جس کے ساتھ ناک کی ہڈیوں میں درد ہو تو اسے گائیکم سے افاقہ ہوسکتا ہے۔اس میں نزلہ کے ساتھ دانتوں کی ہڈیوں میں بھی درد ہوتا ہے۔یو پیٹوریم پرف (Eupatorium perfol) ہڈیوں کے دردوں کے لئے نمایاں شہرت رکھتی ہے لیکن اس کا دائرہ عمل محدود ہے۔عموماً انفلوئنز اوغیرہ کے بخار میں فائدہ دیتی ہے۔ایک چھوٹا سا اڑنے والا کیڑا جسے عرف عام میں کتری“ کہتے ہیں خشک علاقوں میں پایا جاتا ہے۔اس کے کانٹے سے بہت سخت جلن اور سوزش ہوتی ہے اور ہڈی توڑ بخار ہو جاتا ہے۔یو پیٹوریم پرف اس بخار کے لئے بہت مفید ہے۔گائیکم کے در دوقت کے بہت پابند ہیں۔ہڈیوں کے درد خصوصا دانتوں کے نیچے ہڈی میں درد اکثر رات کو بڑھتا ہے۔اگر 6 بجے شام کو شروع ہو اور صبح 4 بجے تک جاری رہے تو گائیکم کو نہ بھولیں۔دیگر علامتیں بھی مل جائیں تو یہ بہت زود اثر دوا ہے۔اگر وجع المفاصل اور گنٹھیا کی تکلیف ہو تو گلا خراب ہونے کا رجحان بھی ہوتا ہے۔گلا خراب ہو تو سارے جسم میں اعصابی اور جوڑوں کے درد ہونے لگتے ہیں۔دانتوں میں درد کی