ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 198
198 کلکیریا کارب ایک ایسی ہی مریضہ کو یہ دوا دی جس نے اتنا اچھا اثر دکھایا کہ اسے اگلے حیض سے پہلے ہی حمل ٹھہر گیا اور بچے کی پیدائش تک اسقاط کی تکلیف نہیں ہوئی حالانکہ اس سے پہلے کئی حمل ضائع ہو چکے تھے۔اسقاط حمل سے بچاؤ کے لئے صحیح دوا کی معین تشخیص بہت ضروری ہے۔فیرم فاس، کلکیر یا فاس اور کالی فاس جو عمومی کمزوری اور خون کی کمی کو دور کرتی ہیں۔یہ دوران حمل بھی اسقاط کے خلاف اچھا اثر دکھاتی ہیں۔دوسری مددگار دوا جو اسقاط میں بہت مفید ہے کولو فائیلیم ہے۔لیکن اگر مریض کی ساخت کلکیریا کارب والی ہو تو اسے بلاتر دو کلکیریا کا رب ہی دیں پھر کسی اور دوا کی غالبا ضرورت پیش نہیں آئے گی۔چونکہ کلکیر یا کومزاجی دوا کے طور پر لمبے عرصہ تک دینا پڑتا ہے اس لئے مسلسل دیتے چلے جانے کی بجائے وقفے ڈال ڈال کر دینا بہتر ہے۔کبھی دیں اور کبھی روک لیں۔مریض کے ٹھیک ہونے کے بعد بھی چھ ماہ تک یہی عمل جاری رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔اگر کھانسی لمبی ہو جائے اور تھوک کے ذریعے خون آئے تو یہ بھی کلکیریا کی علامت ہے۔اس میں کالی کا رب کی طرح پاؤں ٹھنڈے ہوتے ہیں۔اگر عمومی کمزوری بہت بڑھ جائے تو ایسا مریض زیادہ دیر تک بیٹھ بھی نہیں سکتا اور کرسی سے پھسل پھسل جاتا ہے۔اگر کسی مریض میں انتہائی کمزوری کے باعث بار بار سر تکیے سے نیچے ڈھلکتا ر ہے تو اس کی سب سے نمایاں دوا میوریٹک ایسڈ (Muriatic Acid) ہے جو فوری اثر دکھاتی ہے۔اگر روز مرہ اسی طرح ہو تو اس کی بہتر دوا کلکیریا کا رب ہے۔کلکیریا کارب میں کمر کے نچلے حصہ میں درد ہوتا ہے، کمر میں کمزوری محسوس ا ہوتی ہے اور بیٹھ کر اٹھنے سے تکلیف بڑھ جاتی ہے۔مددگار دوائیں : سلفر، کلکیریا سے پہلے اور لائیکو پوڈیم بعد میں اور بیلا ڈونا۔رسٹاکس۔سلیشیا دافع اثر دوائیں کیمفر۔اپی کاک نکس وامیکا۔ٹائیٹرک ایسڈ طاقت 30 سے سی ایم (CM) تک