ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 793
ٹیر مینٹولا اور ہفتوں سے تعلق رکھتا ہے۔793 ملیریا میں بھی ، جبکہ دوسری دوائیں نا کام ہو چکی ہوں اور ملیر یا ہفتہ یا پندرہ دن کے وقفوں کا پابند ہو، اللہ کے فضل سے ٹیرینولا شفا بخشنے کی طاقت رکھتا ہے۔ٹیر مینٹولا کا مریض بالعموم سخت پیاسا، بدمزاج ، عیار اور مکار ہوتا ہے۔خوفناک سکیمیں بنا کر بہت عیاری کے ساتھ نقصان پہنچاتا ہے۔ٹیر مینٹولا کی مریضہ پرلے درجے کی مکار ہوتی ہے اور اپنے مکر سے بہت نقصان پہنچا سکتی ہے۔اکثر دھمکی آمیز الفاظ استعمال کرتی ہے۔اسے اجنبی چہرے دکھائی دیتے ہیں۔جانور ، جن، بھوت اور خوفناک شکلیں نظر آنے لگتی ہیں۔ٹیرینٹولا بے چینی اور جلن کے لحاظ سے آرسنک سے مشابہ ہے اور ہاتھ پاؤں کے تلوے جلنا خصوصیت سے سلفر کی یاد دلاتا ہے۔بعض رنگوں سے نفرت سپین کے لڑنے والے بیلوں سے ملتی ہے جو سرخ رنگ سے سخت نفرت کرتے ہیں اور سرخ چیز پر حملہ آور ہوتے ہیں۔آرسنک ٹیر مینٹولا کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے۔ٹیریٹولا جب کسی بیماری میں نا کام ہو جائے تو آرسنک اس کی متبادل دوا کے طور پر کام کرتا ہے۔ٹیرینولا کی تکلیفوں میں سردی مضر ہے مگر اس کی بعض علامتیں سلفر سے ملتی ہیں۔ہتھیلیوں اور تلووں میں جلن کے لئے نیز ایسی عورتوں کے رحم کی جلن دور کرنے کے لئے جو ہسٹریا کارجحان رکھتی ہوں، ٹیر مینولا اچھی دوا ثابت ہوسکتی ہے۔ٹیر مینٹولا کا مریض عموماً یہ خیال کرتا ہے کہ اس کی ہتک کی جارہی ہے جس کی وجہ سے وہ اندر ہی اندر کھولتا رہتا ہے اور سکیمیں بناتا ہے۔اگر کوئی لومڑ کی طرح چالاک ہو اور ساتھ کچھ پاگل بھی ہو تو اسے پیر مینولا اونچی طاقت میں دینا چاہئے۔پھر مینولا کا مریض بیمار نہ بھی ہو تو ہر بیماری کا ڈرامہ رچا سکتا ہے۔اٹوائی کھٹوائی لے کر پڑرہے گا اور بہانے بنا کر اپنی طرف توجہ کھینچتا رہے گا۔اس کی حقیقی بیماری یعنی اندرونی بے چینی آرسنک سے مختلف ہوتی ہے۔ٹیرینٹولا کا مریض گھبراہٹ سے سر تکیے پر رگڑتا ہے۔سر پر وحشت سوار