ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 792 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 792

ٹیر مینٹولا 792 اور وہ واقعتاً بے شرم اور بے حیا ہو جاتا ہے۔وہ ہر جائز اور ناجائز ذریعہ سے اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ایسے مریض کو ٹی مینولا اونچی طاقت میں دینا ضروری ہے۔ٹیرینولا میں مریض کا گوشت پوست سکڑنے لگتا ہے اور وہ آہستہ آہستہ ہڈیوں کا پنجر بن جاتا ہے جیسے اسے گھن لگ گیا ہو۔یہ ٹیر میٹولا کا مزاج ہے۔اس علامت کا ہسپانوی مکڑے کے زہریلے اثر سے تعلق ہے۔جب وہ کسی جانور کو کاٹتا ہے تو اس کے زہر کے اثر سے شکار کا گوشت گھلنے لگتا ہے جس کی وجہ سے وہ آسانی سے اسے چوس سکتا ہے۔پس اس کے زہر میں گوشت گھلانے کی طبیعی صلاحیت پائی جاتی ہے۔اس لئے اگر کسی مریض کا گوشت کھل رہا ہو اور کوئی اور علامت نہ بھی ہو تو اسے ٹیر مینٹولا استعمال کرانی چاہئے۔میر مینولا میں سردی سے زود حسی پائی جاتی ہے۔سونے سے پہلے ٹانگوں میں بے چینی نمایاں ہوتی ہے۔یہ علامت ارجنٹم ، لائیکو پوڈیم اور آرسینک میں بھی برابر ملتی ہے۔ٹیرینولا کے امراض اور در دمعین وقت پر ظاہر ہوتے ہیں مثلاً اگر پیر کو بیماری کا حملہ ہوا ہے تو اگلے پیر ہی کو پھر حملہ ہوگا۔اس کی جو بیماری دو ہفتوں کے بعد عود کر آتی ہے۔وہ ایک دفعہ پھر دو ہفتے ہی کے بعد دوبارہ ہوگی۔وقت کی پابندی کرنے کا تعلق عموماً جانوروں کے زہروں سے ہوتا ہے۔مثلاً اکثر سانپوں کا زہر ہمیشہ موسم بہار ہی میں اثر دکھاتا ہے جس کی وجہ سے سانپ کے بار بار کاٹنے کی بہت سی دیو مالائی کہانیاں بن گئیں ہیں۔حالانکہ سانپ بار باراسی موسم میں نہیں کا نتا بلکہ اس کالے کے پرانے زخم دوبارہ ہرے ہو جاتے ہیں۔اگر موسم بہار میں سانپ نے کاٹا ہو تو ہر موسم بہار میں مریض کو یہی احساس ہوتا ہے کہ اسے دوبارہ سانپ کاٹ گیا ہے۔ایسے زخموں سے مستقل نجات کے لئے اور پرانے زخموں کے نشان دور کرنے کے لئے لیکیس سے بہتر کوئی دوا نہیں جو اونچی طاقت میں دینی چاہئے۔ٹیرینٹولا میں عین وقت پر مرض کا دہرایا جانا سال یا مہینے سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ دنوں