ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 778 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 778

سٹر نشیم کارب 778 لگتا ہے۔ہاں صدمہ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے مقامی عضلاتی فالج میں کاسٹیکم۔سے مؤثر دوا ہے۔سر کی گدی پر چوٹ لگی ہو یا ریڑھ کی ہڈی کوصدمہ پہنچا ہوتو آرنیکا 1000 کے ساتھ نیٹرم سلف 1000 ملا کر دینی چاہئے۔ہر انسانی جسم میں بیماریوں کے خلاف دفاع کے سب سامان میسر ہیں۔ان کو استعمال میں کیسے لانا ہے ، یہ اصل چیلنج ہے جس کا ہومیو پیتھک طریق کے ذریعہ مقابلہ ہوسکتا ہے۔سٹر نوشیم کا رب آنکھوں کے لئے بھی اچھی دوا ہے۔اگر آنکھوں میں درد اور سرخی پائی جائے اور پانی بہتا ہو اور آنکھ کھولنے اور پڑھنے سے تکلیف میں اضافہ ہو جائے اور جلن بھی ہو تو پھرسٹر فیم کا رب بھی مفید دوا ثابت ہوسکتی ہے۔سٹر نشیم کارب کی ایک اور واضح علامت یہ ہے کہ اس کے مریض کو گوشت سے نفرت ہو جاتی ہے اور روٹی کھانے کی اشتہاء بڑھ جاتی ہے۔ٹھنے میں موچ آنے کے نتیجہ میں جو تکلیفیں ہوتی ہیں ان کا تفصیلی ذکر آرنیکا، لیڈم، بیلس وغیرہ میں گزر چکا ہے۔یہ تکلیفیں مزمن ہو جائیں اور دیگر دواؤں سے قابو میں نہ آئیں تو سٹر نشیم کا رب بھی دوا ہو سکتی ہے۔سٹر نشیم کارب گردن کے پٹھوں کے درد میں بھی مفید ہے لیکن اس عارضہ کے لئے اسے عموماً 30 طاقت میں استعمال کرنا چاہئے۔یہ دوا دائیں کندھے میں درد کے لئے بھی مفید بتائی گئی ہے۔اگر وجع المفاصل کے ساتھ اسہال بھی ہوں ، پنڈلیوں اور پاؤں کے تلووں میں تیج ہو اور پاؤں برف کی طرح ٹھنڈے ہوں تو دیگر کئی دواؤں کی طرح سٹر نشیم کا رب بھی دوا ہوسکتی ہے۔سٹر نشیم کا رب میں مریض کی بھوک ختم ہو جاتی ہے، وہ گوشت سے عموماً نفرت کرتا ، ہے۔ویسے بھی عام کھانے میں مزہ نہیں رہتا۔رات کے وقت اسہال کی تکلیف بڑھ جاتی ہے۔سٹر نشیم کارب کی تکلیفیں موسم کی تبدیلی اور خاموش رہنے سے زیادہ ہو جاتی ہیں۔مریض سردی بالکل برداشت نہیں کر سکتا۔