ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 765 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 765

سپونجیا ٹوسٹا 765 175 سپونجیاٹو سٹا SPONGIA TOSTA (Roasted Sponge) اسفنج سمندر میں پائی جانے والی زندگی کی ایک ایسی قسم ہے جسے آبی جانوروں میں شمار کیا جاتا ہے۔عام طور پر یہ چٹانوں اور پتھروں سے چپکے رہتے ہیں اور حرکت نہیں کرتے۔اگر ان کا کوئی حصہ ٹوٹ جائے یا کٹ کر الگ ہو جائے تو وہ کسی پتھریلی سطح پر چھٹ کر بہت تیزی سے بڑھنے لگتا ہے اور ایک نیا اسفنج وجود میں آ جاتا ہے۔مرنے کے بعد ان کے جسم سطح سمندر پر تیرنے لگتے ہیں۔کچھ لوگ انہیں اکٹھا کر کے فروخت کرتے ہیں اور یہی ان کا ذریعہ معاش ہے۔اسفنج میں یہ خوبی ہے کہ اس کو دبایا جائے تو اس میں موجو دسب پانی نکل جاتا ہے اور پھر یہ خود بخود اپنے اصل حجم پر واپس آ جاتا ہے۔اس کی یہ خاصیت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔سوسال بھی پڑا رہے تو اسی طرح رہے گا۔اسے بہت سی گھر یلوضروریات میں استعمال کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ اسے جلا کر کئی دواؤں میں بھی شامل کیا جاتا رہا ہے۔ہو میو پیتھی طریق علاج میں اسے بھون کر جو دوا تیار کی جاتی ہے وہ بہت سی بیماریوں میں مفید ثابت ہوتی ہے۔اس کا زیادہ تعلق دموی کھانسیوں اور دل کی تکالیف سے ہے۔دل کمزور ور پھل پھیلا سا ہو جائے ، اس میں پوری جان نہ رہے اور اعصاب ڈھیلے پڑ جائیں تو اس کے نتیجہ میں کھانسی اٹھتی ہے اور دمہ بھی ہو جاتا ہے۔اسے Cardiac Cough یعنی دل کی کمزوری سے تعلق رکھنے والی کھانسی کہتے ہیں۔اس میں سپونجیا چوٹی کی دوا ہے۔اس کھانسی کی ایک خاص پہچان یہ ہے کہ کھس کھس کی آوازیں آتی ہیں جیسے آرا چل رہا ہو۔اگر یہ پہچان نہ بھی ہو تو دل کی کمزوری سے جو کھانسی پیدا