ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 726 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 726

سباڈیلا 726 ہیں۔انتڑیوں کے عوارض کا جسم کے بیرونی حصوں کی طرف منتقل ہونا ایک طبعی امر ہے۔معدے کی سوزش ہو تو منہ میں بھی سوزش ہوتی ہے اور بعض دفعہ چھالے سے بن جاتے ہیں۔اگر پیٹ میں کیڑے ہوں اور ساتھ ہی دوسری نزلاتی علامتیں بھی ہوں تو یہ ایک ہی دوا دونوں کو ٹھیک کر سکتی ہے۔پیٹ کے کیڑوں کے لئے ایک دوا سٹیم بھی ہے۔اس کے اثر سے یوں لگتا ہے جیسے کیڑے پکھل گئے ہوں۔سباڈیلا میں خشک کھانسی کے ساتھ پیٹ میں درد بھی ہوتا ہے اور سانس لینے میں دقت محسوس ہوتی ہے۔اس وقت پیاس بالکل نہیں ہوتی اور پیٹ میں خالی پن کا احساس ہوتا ہے۔میٹھی چیزیں کھانے کی خواہش ہوتی ہے۔مریض گرم چیز کھانے سے بہتر محسوس کرتا ہے۔ٹھنڈ اور ٹھنڈے مشروبات سے تکلیف میں اضافہ ہو جاتا ہے۔سردی سے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں جبکہ سر اور چہرہ گرم رہتے ہیں۔گرمی ، جلن اور جسم میں کچھ رینگنے کا احساس پایا جاتا ہے۔جلد بالکل خشک ہو جاتی ہے اور خشکی کی وجہ سے جلد میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں۔خصوصاً پاؤں کی انگلیوں کے نیچے جلد پھٹنے کا رجحان ملتا ہے۔پاؤں کے ناخنوں میں مزمن سوزش بھی سباڈیلا کی ایک علامت ہے۔گلے میں کچھ پھنسنے کا احساس ہوتا ہے جس کی وجہ سے مریض ہر وقت نگلنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔گلے کی یہ تکلیف مزمن ہو جاتی ہے جو سرد ہوا سے بڑھ جاتی ہے۔زبان پر جلن کا احساس ہوتا ہے۔بچوں میں اسہال کا رجحان بھی ملتا ہے۔پیٹ میں کاٹنے والے درد محسوس ہوتے ہیں جیسے کوئی چھری سے کاٹ رہا ہو۔عورتوں کو حیض کا خون دیر سے جاری ہوتا ہے اور بیضہ الرحم (Ovary) میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے چاقو چل رہے ہوں۔اعضاء کے نیچے گرنے کا احساس دوسری اور بہت سی دواؤں کی طرح سباڈیلا میں بھی پایا جاتا ہے۔مددگار دوا: سیا دافع اثر دوائیں پلسٹیلا۔لائیکو پوڈیم کو نیم لیلیس طاقت 30