ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 710
رسٹاکس 710 سے رد عمل ہوا لیکن پہلے سے کم ، تین چار ہفتوں میں اس کے ہاتھ بالکل صاف ہو گئے اور ایگزیما کا نام ونشان بھی باقی نہ رہا۔پس جب یہ دوا کام کرتی ہے تو حیرت انگیز اثر دکھاتی ہے۔میرے علم کے مطابق اس کا کوئی اور متبادل نہیں ہے۔جہاں رسٹاکس کی خاص علامتیں نمایاں ہوں وہاں رسٹاکس ہی دینی پڑے گی۔رسٹاکس کا مرطوب موسم سے گہرا تعلق ہے۔برسات میں جبکہ گرمی بھی ہو اس کی تکالیف بہت بڑھ جاتی ہیں۔ملیریا بخار کے لئے بھی رسٹاکس بہت اچھی دوا ہے۔اگر علامتوں کے آغاز میں اسے برائیونیا کے ساتھ ادل بدل کر دیا جائے تو بہت مفید نسخہ بن جاتا ہے۔لیکن اگر پہلے آرنیکا اونچی طاقت میں حفظ ما تقدم کے طور پر دے دی جائے تو ملیریا کے خلاف جسم میں دفاع پیدا ہو جائے گا۔اس سلسلہ میں آرنیکا، آرسنک اور نیٹرم میور کا بھی مطالعہ کریں۔رسٹاکس ملیریا کے علاوہ بعض دوسرے بخاروں میں بھی مفید ہے یعنی وہ بخار جو کبھی کم اور کبھی زیادہ ہو جاتے ہیں یا مسلسل جاری رہتے ہیں، ان میں بھی اچھا اثر دکھاتی ہے۔ایسا بخار مریض کو نڈھال کر دیتا ہے۔بے چینی، کپکپاہٹ اور زبان پر خشکی رہتی ہے اور مریض سردی محسوس کرتا ہے مگر یہ مرکزی علامت ضرور موجود ہوگی کہ اسے کسی کروٹ چین نہیں آتا اور اس کا سارا جسم دیکھتا ہے۔رسٹاکس خلیوں کی سوزش(Cellulitis) میں بہت مفید ہے۔یہ سوزش غدودوں اور جلد کی بیرونی سطح اور اندرونی جھلیوں سے تعلق رکھتی ہے۔درد اور اینٹھن اس کی علامت ہیں۔رحم کی اندرونی جھلیوں کی سوزش (Endometritis) میں بھی رسٹاکس دینی چاہئے۔عین ممکن ہے کہ یہ اندر سے بیماری کو ٹھیک کرے اور جلد پر نکال دے۔سلفر اور پائیر وچینم ملا کر 200 طاقت میں دیں تو یہ بیماری کافی حد تک قابو میں آ جائے گی۔اگر ان دواؤں کو رسٹاکس کے ساتھ ادل بدل کر دیں تو خدا کے فضل سے بعض مریضوں کو مکمل شفا ہو جاتی ہے۔وہ تمام جلدی امراض جن میں جلد پر پانی کے چھالوں کے علاوہ خون یا پیپ کے بڑے بڑے چھالے ہوں ان میں بھی رسٹاکس مفید ہے بشرطیکہ جلن بہت نمایاں ہو۔