ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 36 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 36

ایگنس کاسٹس 36 ایگنس کاسٹس روشنی سے زودحسی میں بھی کام آتی ہے۔کئی دوسری دواؤں میں بھی یہ علامت پائی جاتی ہے لیکن ایگنس کاسٹس میں روشنی سے زود حسی کے نتیجہ میں سر میں درد شروع ہو جاتا ہے۔اگر سر میں پہلے ہی درد ہو تو روشنی نا قابل برداشت ہو جاتی ہے اور آنکھیں نہیں کھلتیں۔اگر ایگنس کانسٹس کی خصوصی علامتیں نہ ہوں اور روشنی میں آنکھ کھولنے سے تکلیف ہوتی ہو تو ایسے درد کی بہتر دوا گریفائٹس ہے۔ایگنس کاسٹس میں ناک کی ہڈی میں درد ہوتا ہے جسے دبانے سے آرام آتا ہے۔بعض قسم کی خوشبوؤں سے زود حسی ہوتی ہے، رخساروں پر خارش اور چیونٹیاں رینگنے کا احساس بھی ایگنس کاسٹس کی خاص علامت ہے۔ایگنس کاسٹس میں پیٹ میں ہوا بھی پائی جاتی ہے۔معدہ سے گڑ گڑاہٹ کی آوازیں آتی ہیں۔آنتیں نیچے گرنے کا احساس ہوتا ہے اور مریض پیٹ کو ہاتھوں سے پکڑتا ہے۔ایگنس کاسٹس مردانہ کمزوریوں میں بھی مفید دوا ہے۔خصوصاً اوائل عمر میں کی جانے والی غلطیوں کے نتیجہ میں کمزوری اور ناطاقتی کا شکار ہونے والے مریضوں کی کمزوریاں دور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔عام اعصابی کمزوریاں دور کرنے میں بھی کالی فاس کی طرح اچھا اثر رکھتی ہے۔مددگار دوائیں: کلیڈیم۔سیلینیم دافع اثر دوائیں: کیمفر نیکس وامیکا طاقت : 30 سے اونچی پوٹینسیاں سی۔ایم (CM) تک