ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 652
فاسفورس 652 زور دیا گیا ہے کہ ہو میو پیتھک معالج انہیں غیر ضروری اہمیت دینے لگتا ہے حالانکہ اندرونی علامتیں موجود ہوں تو ظاہری جسمانی علامتیں ملیں یا نہ ملیں یہ کام دیتا ہے۔فاسفورس کے مریض کے بارے میں عموماً یہ لکھا ہوتا ہے کہ دبلا پتلا ، لمبا انسان مخروطی انگلیاں اور فن کارانہ مزاج رکھتا ہے۔بہت سفید رنگ اور سنہرے بال ہوں، آنکھوں میں بھی کچا پن پایا جائے ، نازک اور حساس ہو، وغیرہ وغیرہ۔ایسے مریض کو ڈھونڈ نا تو بہت مشکل کام ہے اور دنیا کے بعض علاقوں میں تو ایسے انسان شاذ کے طور پر ہی مل سکتے ہیں اور وہ بھی ضروری نہیں ہے کہ فاسفورس کے ہی مریض ہوں۔فاسفورس کے مریض کو اس کی جسمانی ساخت سے نہیں بلکہ اس کے مزاج سے پہچاننا چاہئے۔اس کی زود سی پر نظر رکھیں۔کئی بیماریوں کے ردعمل میں فاسفورس کو پہچانا جاسکتا ہے۔مثلاً بعض عورتوں کی بیماریوں میں ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔اعصاب میں مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رہتی۔حرارت غریزی کم ہو جاتی ہے۔یہ فاسفورس کی علامتیں ہیں۔مریض کا رنگ خواہ کا لا ہو یا سفید ، اس سے فرق نہیں پڑے گا۔ہڈیوں، چھاتی اور گردے کی بیماریوں میں اگر مریض کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوں تو چونکہ یہ علامتیں سلیشیا میں بھی پائی جاتی ہے اس لئے فاسفورس کو سلیشیا کے ساتھ ادل بدل کر دینے سے فائدہ پہنچتا ہے۔فاسفورس میں ہمیشہ سرخ رنگ کا خون بہتا ہے جبکہ سلفر میں کالے رنگ کا خون بہنے کا رجحان ہوتا ہے۔عورتوں کے ماہانہ ایام میں وقت سے پہلے سرخ چمکدار رنگ کا خون آنے لگے تو یہ فاسفورس کی خاص علامت ہے۔فاسفورس کے اخراجات میں تیزابیت پائی جاتی ہے۔لیکوریا بھی کاٹنے اور چھیلنے والا ہوتا ہے اور اسہال میں بھی اتنی تیزابیت ہوتی ہے کہ جلد پر چھالے پڑ جاتے ہیں۔فاسفورس نیٹرم میور اور برائیونیا سے بھی مشابہت رکھتا ہے۔برائیونیا میں ہونٹوں پر پیڑیاں جم جاتی ہیں اور کنارے خشک ہو کر پھٹ جاتے ہیں۔فاسفورس میں بھی یہ علامتیں پائی جاتی ہیں۔پلاٹینم کی بعض علامتیں بھی اس میں موجود ہوسکتی ہیں یعنی اپنے آپ کو دوسرے لوگوں سے الگ کر لینا اور بہت اونچا سمجھنا، یہ علامت بعض دفعہ