ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 651
فاسفورس 651 151 فاسفورس PHOSPHOSRUS فاسفورس کا عصر قدرتی طور پر کئی شکلوں میں پایا جاتا ہے۔سب سے زیادہ سفید فاسفورس ملتا ہے جو ٹھوس شکل میں ہوتا ہے۔یہ اندھیرے میں چمکتا ہے اور بہت جلد آگ پکڑ لیتا ہے۔اسے گرم کیا جائے تو سرخ رنگ کے سفوف میں تبدیل ہو جاتا ہے جس سے ماچس بنائی جاتی ہے۔فاسفورس حیوانی اور نباتاتی زندگی کا ایک انتہائی اہم جزو ہے جسے روایتی طب میں بھی مختلف بیماریوں کے علاج میں استعمال کیا گیا ہے۔اس کے سفوف سے ہومیو پیتھی دوا تیار کی جاتی ہے۔فاسفورس بہت گہرا اثر رکھنے والی دوا ہے۔اندرونی جھلیوں ،اعصابی رگوں ،غدودوں اور دماغ سے اس کا بہت گہرا تعلق ہے۔ہڈیوں اور ہڈیوں کے گودے پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔سیلان خون کی بہترین دواؤں میں سے ہے لیکن اس کا تعلق سرخ نظام خون سے ہے، سیاہ سے نہیں۔اس لئے صرف سرخ خون کی بیماریوں میں اس کی طرف خیال جانا چاہئے۔فاسفورس تپ دق اور دماغ کے ٹیومر میں مفید ہے مگر اس کی پوٹینسی کے چناؤ میں بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔علاج ہمیشہ 30 طاقت سے شروع کرنا چاہئے اور اسے حسب ضرورت رفتہ رفتہ بڑھانا چاہئے۔ہڈیوں کے کینسر میں اعلیٰ درجہ کی دوا ہے۔اسی طرح دمہ میں بھی بہت مفید ہے۔اگر عام دواؤں سے دمہ قابو میں نہ آئے اور فاسفورس کی علامتیں موجود ہوں تو خدا کے فضل سے اس کے استعمال سے نمایاں فرق پڑتا ہے۔عام طور پر ہو میو پیتھی کی کتابوں میں فاسفورس کے مریض کی ظاہری علامات پر اتنا