ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 596 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 596

مرکزی 596 ہو جاتے ہیں۔حوصلہ کمزور ہو جاتا ہے۔شکی مزاج ہوتے ہیں۔زندگی سے تھک جاتے ہیں۔ان سے کوئی بات پوچھی جائے تو بہت آہستگی سے اور ٹھہر کر جواب دیتے ہیں۔یادداشت کمزور ہو جاتی ہے اور سر میں کمزوری محسوس ہوتی ہے۔مرکزی کے سر درد کا تعلق دبے ہوئے اخراجات سے ہوتا ہے یہاں تک کہ اگر پاؤں کا پسینہ بھی بند ہو جائے یا نزلہ اچانک خشک ہو جائے تو سر درد شروع ہو جائے گا۔حیض کا خون رک جائے تو سر میں درد ہونے لگتا ہے۔کمر کے بل لیٹنے سے سر میں چکر آنے لگتے ہیں۔سر کے گرد پٹی سی بندھے ہونے کا احساس ہوتا ہے۔بائیں کنپٹی میں درد ہوتا ہے۔کھوپڑی میں دباؤ اور گھٹن محسوس ہوتے ہیں۔جلن اور خارش بھی پائے جاتے ہیں۔مرکزی کی بیماریاں سردی اور گرمی دونوں موسموں میں بڑھ جاتی ہیں۔ہوا کا جھونکا بھی نا قابل برداشت ہو جاتا ہے۔اگر خسرہ وغیرہ کے بعد بچوں میں سر بڑھنے کی علامت نظر آئے تو مرکزی اس رجحان کو فورا ختم کر دیتی ہے۔مرکزی کے مریض کی جلد کا رنگ مٹیالا ہو جاتا ہے۔خارش اور ایگزیما کے اخراجات میں بو کی علامت نمایاں ہوتی ہے اور خون بہنے لگتا ہے۔زخموں کے کنارے اٹھے ہوئے ہوتے ہیں اور ان پر سفید جھلی سی آ جاتی ہے۔رات کو جلد کی تکلیفیں زیادہ ہو جاتی ہے۔بستر کی گرمی بیماریوں کو بڑھا دیتی ہے۔آنکھوں میں سوزش ، جلن اور سرخی پائی جاتی ہیں۔پانی بہتا ہے۔آنکھوں کے سامنے سیاہ دھبے نظر آتے ہیں۔آگ کی روشنی کی طرف دیکھنے سے آشوب چشم کا عارضہ لاحق ہو جاتا ہے۔آنکھوں کے گرد اور کنپٹیوں میں درد ہوتا ہے۔نظر دھندلا جاتی ہے۔آنکھ کے پردہ ( کورنیا) پر سوزش ہو جاتی ہے۔روشنی سے بہت زود حسی پائی جاتی ہے۔گرمیوں کے موسم میں آنکھ دکھنے کی سب علامتیں مرکری میں ملتی ہیں۔اگر کوئی خاص علامت کسی اور دوا کو واضح کرنے والی نہ ہو تو مرکسال کو آزمانا چاہئے۔اگر سورج گرہن کے دوران سورج کو دیکھا جائے تو آنکھ کا پردہ ریٹینا (Retina) سخت متاثر ہوتا ہے جس کا علم فورا نہیں ہوتا۔کئی سالوں میں آہستہ آہستہ اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔۔