ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 585
میڈورا میکنم 585 ہیں۔رات کو بڑھنے والی تکلیفوں میں بھوتوں یا مردہ لوگوں کا خوابوں میں آنا اور ساری رات ڈراؤنی خوابیں آتے رہنا اس کی نمایاں علامت ہے۔اسی طرح پیشاب کی تکلیفیں بھی رات کو بہت بڑھ جاتی ہیں۔مریض کو بار بار اٹھنا پڑتا ہے اور بعض دفعہ اس شدت سے پیشاب آتا ہے کہ کموڈ (Commode) تک پہنچنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ایسے مریضوں کے پراسٹیٹ گلینڈز یعنی غدہ قدامیہ میں بھی ہر قسم کے ورم اور سوزش کی علامتیں ملتی ہیں۔تھو جا بھی میڈ وراٹینم سے ملتی جلتی دوا ہے اور اس میں بھی اکثر تکلیفیں آدھی رات کے بعد بڑھتی ہیں۔وجع المفاصل میں اگر پہلے میڈورائینم دیا جائے تو اصل علامتیں کھل کر باہر آ جاتی ہیں اور علاج میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔میڈ ورائینم کی ایک علامت جسم میں سوئیاں چبھنا اور چھیا کی نکلنا ہے جس کا شور سے بھی ایک خاص تعلق ہے۔اگر شور زیادہ ہو اور اعصاب پر دباؤ ہو تو چھپا کی نکل آتی ہے۔میڈ ورائیٹنم میں پاؤں اور ٹانگوں کے ورم بھی ملتے ہیں۔گھٹنے تک ٹانگیں بے حد ٹھنڈی ہو جاتی ہیں۔بعض دفعہ ایسے مریضوں کے تلوے اتنے زود حس ہو جاتے ہیں کہ مریض تلوؤں کے بل چل ہی نہیں سکتا اور اسے گھٹنوں کے بل اپنے آپ کو گھسیٹنا پڑتا ہے یا پھر بہت احتیاط سے آہستہ آہستہ تلووں پر دباؤ ڈالتے ہوئے چلنا شروع کرتا ہے اور چلنے سے جو گرمی پیدا ہوتی ہے اس سے کچھ دیر کے لئے چلنا آسان ہو جاتا ہے مگر بعد میں تلوؤں کی تکلیف پہلے سے بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔میڈ ورائینم کی علامات میں یہ بات بھی نمایاں ہے کہ وقت بہت آہستہ آہستہ گزرتا ہے۔بچوں یا لڑکیوں وغیرہ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کے پیچھے کوئی کھڑا ہے۔ایک دم ڈر کے پیچھے دیکھتے ہیں جیسے کوئی پیچھے سے دبے پاؤں آ گیا ہو۔یوں لگتا ہے جیسے کچھ چہرے انہیں جھانک رہے ہیں۔اس احساس کو دور کرنے کے لئے میڈ ورائینم کے علاوہ فاسفورس بھی اچھی دوا ہے۔فاسفورس میں بھی یہ احساس پایا جاتا ہے کہ کوئی شخص چیزوں کے پیچھے چھپا ہوا مریض کو جھانک رہا ہے۔بیماریوں کے بعض زہروں کے اثر سے