ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 584 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 584

میڈ ورا ئینم 584 اور مرکری کے استعمال سے اسے دبا دیا گیا تھا مگر بظاہر یہ نا پید بیماری مختلف عوارض کے بھیس میں ہمیشہ جسم میں موجود رہی۔یہی حال سوزاک کا بھی ہے۔یہ بھی نسلاً بعد نسل جسم میں موجود رہتا ہے۔اگر اسے جڑ سے نہ اکھیڑا جائے تو اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج بھی سطحی ثابت ہوتے ہیں۔ان دواؤں میں جو دبے ہوئے سوزاک کا قلع قمع کر سکتی ہیں ایک میڈ ورائینم ہے جس کی بہت تعریف کی جاتی ہے اور بعض ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ہر علاج میڈ ورائینم سے شروع کرنا چاہئے۔اگر سوزاک کی دبی ہوئی علامتیں موجود ہوئیں تو میڈ ورائینم کی بہت اونچی طاقتیں انہیں اچھال کر باہر لے آئیں گی۔اس کے نتیجہ میں بیماری کی جو شکل بھی ظاہر ہوگی اس کا علاج دراصل دبے ہوئے سوزاک کا علاج ثابت ہو گا اور اس کے بداثرات ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائیں گے۔دمہ کا بھی میڈورائیم سے بہت تعلق ہے۔بچوں کا سوکھا پن ، دمہ، دانگی نزلہ، داد اور خاص قسم کے مسے ، وہ عمومی بیماریاں ہیں جو سوزاک کے دب جانے سے جسم میں زہر یلے رجحانات کے طور پر چھپی رہتی ہیں اور حسب حالات کبھی کبھی ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ہر قسم کے مسے جو تھو جا کے قابو میں نہیں آتے ان میں میڈ ورائینم دینا ضروری ہو جاتا ہے۔بعض عورتوں کو شادی کے بعد بعض تکلیفیں آگھیرتی ہیں۔مثلاً حیض کے ایام میں بے قاعدگی ، درد اور اعصابی کمزوری وغیرہ، انہیں بھی میڈ ورائینم کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔میڈ ورا ئینم کا مریض سخت ٹھنڈا ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اسے بہت پسینہ آتا ہے اور اسی طرح بعض دفعہ اس کی ہتھیلیاں جلتی ہیں مگر اس کے باوجود ہاتھ باری باری ٹھنڈے بھی ہو جاتے ہیں۔کبھی دایاں ،کبھی بایاں اور بعض دفعہ دونوں ہاتھ سخت ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔وجع المفاصل اور بائی کی عمومی دردوں میں اگر علامتیں ملتی ہوں تو اسے بہت مفید بتایا جاتا ہے۔اگر چہ اس کی بہت سی علامتیں عموماً سورج چڑھنے کے بعد سے سورج کے غروب ہونے تک رہتی ہیں لیکن بعض دوسری علامتیں رات کے وقت بہت بڑھ جاتی