ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 22 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 22

ایسکولس 22 عضلات میں پھڑ کن پائی جاتی ہے، آنکھوں کی پتلیوں میں درد ہوتا ہے۔ایسکولس کا مریض عموماً سردی محسوس کرتا ہے اور اسے دردوں کو گرمی پہنچانے سے آرام آتا ہے۔پلسٹیلا کی طرح در دسارے جسم میں دوڑے پھرتے ہیں۔لیکن ان دونوں دواؤں میں ایک فرق پایا جاتا ہے کہ پلسٹیلا میں درد ہمیشہ گرمی سے بڑھتے ہیں اور سردی سے آرام آتا ہے۔پلسٹیلا میں غم کا رجحان اور مزاج میں نرمی ہوتی ہے۔ایسکولس میں بھی غم کی طرف میلان ہوتا ہے لیکن مزاج میں نرمی نہیں ہوتی اور تکلیفوں کو گرمی سے آرام آتا ہے۔ایسکولس کے مریض کی کمر میں مستقل تھکی تھکی سی درد کا احساس رہتا ہے۔ریڑھ کی ہڈی میں کمزوری آ جاتی ہے۔کمر اور ٹانگیں جواب دے جاتی ہیں۔چلنے سے پاؤں لڑکھڑاتے ہیں، بیٹھ کر اٹھنا مشکل ہو جاتا ہے۔کندھوں کے درمیان درد، گردن کی پشت میں تھکاوٹ کا احساس، دائیں کندھے اور سینہ میں درد، جس میں سانس اندر کھینچنے سے اضافہ ہو، ہاتھ پاؤں میں سوزش، دھونے سے ہاتھ سرخ ہو جائیں، جوڑوں میں اکڑن اور درد، جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوں ، بجلی کے جھٹکے کی طرح چیرنے والے درد، درد کو ٹکور سے آرام۔یہ سب ایسکولس کے دائرہ عمل میں ہیں۔ایسکولس میں ایک خاص قسم کی بواسیر ہے جس میں انگور کے خوشوں کی طرح نیلگوں رنگ کے دو چار سے اکٹھے ہوتے ہیں جن میں شدید جلن کا احساس ہوتا ہے۔کھڑے ہونے اور چلنے سے درد شدت اختیار کر جاتا ہے۔مقعد میں جلن، خشکی اور یہ احساس جیسے چھوٹی چھوٹی کر چیاں بھری ہوئی ہیں، اجابت سخت، خشک اور مشکل سے ہوتی ہے۔اور اجابت کے بعد سخت در دو ہوتا ہے۔ایسکولس میں گردوں کا درد بھی نمایاں ہے۔خصوصاً بائیں گردے میں درد۔بار بار پیشاب کی حاجت مگر مقدار میں کم ، سیاہی مائل جلتا ہوا پیشاب آتا ہے۔عورتوں میں دوران حیض شدید کمر درد اور کمزوری کا احساس، رحم کا اندر کی طرف گرنا ایسکولس کی خاص علامت ہے۔لیکوریا گہرے زرد رنگ کا ، گاڑھا اور لیس دار