ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 548 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 548

548 مزید کام نہیں کرتی اور پھر دوسری دوائیں ڈھونڈنی پڑتی ہیں۔نفسیاتی علاج کی خاطران شکوک و شبہات کو پیدا کرنے کی موجب وجوہات ڈھونڈنی پڑتی ہیں۔اس مرض میں لیکیس سے مکمل فائدہ اسی وقت ہو گا جب لیکیس کی دوسری بنیادی علامتیں بھی اس مریض میں ملتی ہوں۔لیکیس کے مریضوں کو یہ خطرہ رہتا ہے کہ ان کا مستقبل ہمیشہ کے لئے تاریک ہو گیا ہے یا ان سے کوئی ایسا گناہ سرزد ہو گیا ہے جو نا قابل معافی ہے یا ان کا وجود کسی اور بالا طاقت کے قبضہ میں آ گیا ہے اور وہ اس کے ہاتھوں میں آلہ کار بن چکے ہیں۔ایسی ہی ایک مریض بچی میرے پاس لائی گئی جو چوری کی عادت میں مبتلا تھی ، پوچھنے پر کہتی تھی کہ اللہ کا حکم ہوتا ہے اس لئے کرتی ہوں۔ایسے مریضوں کا علاج لیکیسس سے کرنا چاہئے۔جو خدا کے حکم پر اسی کی نافرمانی کریں وہ سانپ کے حکم پر اس کی فرمانبرداری شروع کر دیتے ہیں۔لیکلیس کی مریضا ئیں ایسے شکوک میں مبتلا ہو جاتی ہیں کہ ان کے پیچھے کوئی آ رہا ہے۔مذہبی رجحانات غیر معمولی شدت اختیار کر لیتے ہیں۔یہ شدت لیکیسس سے تعلق رکھتی ہے مگر اس کی سب سے خطرناک علامت یہ ہے کہ ان کے دل میں بعض دفعہ یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کا حکم ہے کہ وہ کسی کو قتل کر دیں اور یہ یقین جاگزیں ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کام پر مامور کر دیا ہے۔ایسے مریض بعض دفعہ واقعتا قتل کر بھی دیتے ہیں یا قتل کرنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔اگر یہ مذہبی جنونی ہوں تو بے حد باتونی بھی ہو جاتے ہیں۔ان کے ہر کام میں افراتفری اور بے صبری ظاہر ہوتی ہے۔بات چیت بھی ٹھیک طرح سے نہیں کر سکتے۔آدھی بات کر کے درمیان میں کوئی دوسری بات شروع کر دیتے ہیں۔جملہ مکمل نہیں کر پاتے۔خود چاہیں جتنا مرضی شور ڈالیں ان کے لئے بیرونی شور نا قابل برداشت ہوتا ہے اور ان کے اعصاب بھنا اٹھتے ہیں۔ان میں خود کشی کا رجحان بھی پایا جاتا ہے لیکن یہ رجحان صرف ان کی سوچ تک محدود رہتا ہے ،عملی قدم اٹھانے سے ڈرتے ہیں۔اونچی جگہ سے چھلانگ لگانے کو دل چاہتا ہے لیکن ساتھ ہی ایسی جگہوں سے خوفزدہ بھی ہوتے ہیں۔مریض نیچے کھڑا ہو اور اونچی جگہ کے تصور سے