ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 540 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 540

540 ليكيس سخت رد عمل دکھاتا ہے اور وہ خود بھی ایک پروٹین ہے جسے مختلف گروپس (Groups) میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ کا الگ نام رکھا گیا ہے خون دیتے وقت ان گروپس کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔یہ اس لئے کیا جاتا ہے کہ انسانی خون بھی اسی طرح کا زہر ہے جیسے سانپ کا زہر بلکہ انسانی خون تو سانپوں کے زہر سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔اگر یہ زہر خون میں گروپ میچنگ کئے بغیر براہ راست داخل کر دیا جائے تو آ نافا نا موت واقع ہوسکتی ہے۔سانیوں کے جسم میں موجود پروٹین ان کے منہ میں موجود غدودوں میں جمع ہوتی رہتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ گا ڑھی ہوتی چلی جاتی ہے۔کاٹنے کا یہ سارا نظام کسی اتفاقی حادثے کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ خدا تعالیٰ نے با قاعدہ ترکیب دیا ہے۔اس کے بغیر اس نظام کا از خود ارتقاء یا کسی اتفاق کے نتیجہ میں پیدا ہوجانا ممکن نہیں ہے۔سانپ کی کچلیوں کے ساتھ دومڑے ہوئے دانت ہوتے ہیں جن میں سوراخ ہوتا ہے۔ان دانتوں کا زہر کی تھلیوں سے ملاپ ہوتا ہے۔جب سانپ کاٹنے کے لئے ضرب لگاتا ہے تو کوئی زہر نہیں نکلتا لیکن جب سانپ سر پیچھے کر کے دانت باہر نکالنے کی کوشش کرتا ہے تو زہر کی تھیلیاں دیتی ہیں اور ان کا زہر دانتوں میں واقع سوراخ کے رستے ٹیکے کی طرح بدن میں داخل ہو جاتا ہے۔اس کے نتیجہ میں سخت رد عمل پیدا ہوتا ہے۔ان سب زہروں میں لیکیس کو ہومیو پیتھک علاج کے لحاظ سے بہت اہمیت حاصل ہے کیونکہ ہو میو پیتھی طریقہ علاج میں جتنا لکیس کے زہر کا استعمال ہوا ہے اتنا کسی اور ز ہر کانہیں ہوا اور اس سے غیر معمولی فوائد حاصل کئے گئے ہیں۔ڈاکٹر کینٹ کا خیال ہے کہ اس کا کسی خاص علاقے سے تعلق نہیں ہے بلکہ تمام دنیا میں ہر جگہ اس دوا کو مفید پایا گیا ہے۔لیکیسس کے زہر میں جو شر اور تیزی پائی جاتی ہے وہ دنیا کے تمام بدکارانسانوں اور بگڑے ہوئے مزاجوں میں پائی جاتی ہیں یعنی شدید حسد، شرارت، فساد و غیرہ کا رجحان لیکیس میں بہت شدت سے موجود ہوتا ہے۔اس لحاظ سے یہ عالمی زہر کہلاتا ہے۔سانپوں کے زہر عموماً موسم بہار میں شدت اختیار کر جاتے ہیں۔موسم سرما میں سانپ