ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 526 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 526

لیک کینا ئینم 526 انسانی دماغ میں بیماریاں بن کر ابھرتی ہے۔اگر بیماریاں پہلے سے موجود ہوں تو اس دودھ کی ہومیو پیتھک دوائی میں ان کو ٹھیک کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔اس دوا میں اعصابی علامات بہت نمایاں ہوتی ہیں۔غدودوں پر بھی یہ اثر انداز ہوتی ہے۔بڑھے ہوئے غدودوں کو ٹھیک کر دیتی ہے۔اگر غدودوں میں زخم ہو جائیں تو ان کی سطح بہت چمکدار ہو جاتی ہے۔ایسی چمک پائی جاتی ہے جو نظر کو بری لگتی ہے۔تناؤ بھی ہوتا ہے۔لیک کینا ئینم ایسے زخموں کو ٹھیک کر دیتی ہے۔لیک کینا ئینم میں جلد کی شدید زود حسی پائی جاتی ہے۔عموماً عورتوں میں یہ زود حسی نمایاں ہوتی ہے اور وہ پانچوں انگلیاں پھیلا کر رکھتی ہیں۔اگر اتفاقا ایک انگلی دوسرے سے لگ جائے تو چلا اٹھتی ہیں۔کپڑے کا ہلکا سالمس بھی برداشت نہیں کر سکتیں۔لیکیس میں بھی یہ زود سی پائی جاتی ہے اور بعض دفعہ یہ دونوں ایک دوسرے کی متبادل دوائیں بن جاتی ہیں۔لیکیس اور لیک کینا ئینم میں ایک اور مشترک بات یہ ہے کہ دونوں کے مریضوں کے احساسات بہت تیز ہو جاتے ہیں اور وہ خیالی چیزوں سے بھی خوف کھانے لگتے ہیں۔اس قسم کی علامات ملنے کے باوجود دونوں میں فرق بھی نمایاں ہیں۔لیک کینا ئینم کا مریض اکیلا نہیں رہ سکتا جبکہ لیکیسس کا مریض تنہائی چاہتا ہے۔لیکیس کی تکلیفیں نیند کے بعد بڑھتی ہیں اور بائیں طرف سے دائیں طرف حرکت کرتی ہیں۔ذہنی اور نفسیاتی بیماریاں :۔لیک کینائینم میں ایک اور بات نمایاں ہے کہ اس کا مریض چلتا ہے تو محسوس کرتا ہے کہ وہ فضا میں تیر رہا ہے۔وہ یہ خیال کرتا ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے وہ جھوٹ ہے۔وہ اپنے آپ کو جھوٹا سمجھتا ہے۔لیک کینا ئینم کی ایک علامت جو کسی اور دوا میں نہیں ہے وہ یہ ہے کہ اس کا مریض سمجھتا ہے کہ اس کے منہ پر دوسرے کی ناک لگی ہوئی ہے یا یہ کہ اس کا جسم کسی اور کا جسم ہے اور اس کی بجائے کوئی اور بات کر رہا ہے۔لیک کینا ئینم جوڑوں کے درد میں بھی مفید ہے۔سارے بدن کے عضلات میں درد ہوتا ہے جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا رہتا ہے۔اچھل اچھل کر جگہیں بدلتا ہے