ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 509
کالی فاس 509 اچانک اٹھنے سے سر جھکانے سے اور سر کے دائیں بائیں حرکت کرنے سے چکر آنے کی علامت برائیو نیا اور کالی فاس کے علاوہ کئی اور دواؤں میں بھی پائی جاتی ہے۔نکس وامی کا بھی چکروں کا بہت اچھا علاج ہے۔بعض دفعہ سر بوجھل سا محسوس ہوتا ہے اور توازن ٹھیک نہیں رہتا۔چلتے وقت قدم لڑکھڑاتے ہیں۔سر کو حرکت دینے سے چکروں کا احساس ہوتا ہے۔اسی طرح جب پیٹ کی ہوا معدہ میں اچانک لرزہ پیدا کرتی ہے تو اس حرکت سے بھی توازن بگڑ جاتا ہے اور چکر آ جاتے ہیں۔ایسی صورت میں نکس وامی کا بہت اچھا اور فوری اثر دکھاتی ہے۔اگر چکر محض اعصابی تھکاوٹ کی وجہ سے آئیں تو کالی فاس اول طور پر یاد آنی چاہئے۔اگر ہر بیماری حرکت سے بڑھتی ہواور سفر کی حالت میں چکر آئیں تو اس میں کا کولس اور برائیو نیا دونوں مفید ہوتی ہیں۔کالی فاس کا مریض توازن قائم نہ رکھ سکے تو سامنے کی طرف گرنے کا رجحان رکھتا ہے۔بعض مریض پچھاڑ کھا کر پیچھے کی طرف گرتے ہیں۔ان میں یہی رجحان بعض دفعہ آگے کی طرف گرنے کے رجحان میں تبدیل ہو جاتا ہے۔کالی فاس کا مریض عموماً ذہین ہوتا ہے اور اسے چکر کھا کر پیچھے گرنے کا خوف آگے کی طرف جھکنے پر مجبور کرتا ہے لہذا اس اندفاعی کوشش میں بعض اوقات وہ آگے کی طرف گر بھی جاتا ہے۔کالی فاس کے علاوہ چہرے کے اعصابی دردوں میں عموماًفاسفورس،سلیشیا، سپائی جیلیا اور میگنیشی فاس مفید ہوتی ہیں۔میگ فاس بھی اعصاب سے گہرا تعلق رکھنے والی دوا ہے۔اگر اعصاب تشر میں بے چینی اور عضلات میں سنج پیدا ہو جائے تو کالی فاس سے زیادہ میگنیشیا فاس کی طرف دھیان جانا چاہئے۔لیکن کالی فاس بھی تشیخ پیدا کرتی ہے اور ہومیو پیتھک یا بائیو کیمک صورت میں استعمال سے تشنج کو دور کرتی ہے۔اس کا شیخ زیادہ تر دھڑ کے نچلے حصہ سے تعلق رکھتا ہے۔عمو مارانوں، پنڈلیوں یا پاؤں میں تشیخی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔میک فاس کا تصبح جسم کے ہر حصہ سے تعلق رکھتا ہے اور بعض دفعہ انتڑیاں بھی اس سے متاثر ہوتی ہیں۔جراثیم کے ذریعہ پھیلنے والی گردوں کی بیماریوں پر