ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 479 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 479

آئرس ٹینکس 479 121 آئرس ٹینکس IRIS TENAX آئرس ٹینکس ایک پودے سے تیار کی جانے والی دوا ہے۔1885ء میں ڈاکٹر جارج وگ نے اس دوا کی آزمائش کی اور اسے ایسے مریضوں پر استعمال کیا جنہیں آنتوں میں شدید درد اور سبز رنگ کی قے آنے کی شکایت تھی۔آئرس ٹینکس ، آئرس در سیکولر (Iris Versicolor) سے ملتی جلتی دوا ہے لیکن دونوں میں فرق بھی ہے اور دونوں کی اپنی اپنی الگ خصوصیات بھی ہیں۔آئرس ور سیکولر معدے کی کھٹاس اور تیزابیت کی بہترین دوا ہے جبکہ آئرس ٹینکس میں معدے کی کھٹاس تو پائی جاتی ہے لیکن اس تکلیف کے ساتھ گلے اور منہ میں بھی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔آئرس ٹینکس اپینڈے سائٹس (Appendicitis) کی بہترین دوا سمجھی جاتی ہے۔لہذا اس کے فوائد کو محض اسی تکلیف تک محدود کر دیا گیا ہے حالانکہ یہ روز مرہ کی عام تکلیفوں میں بھی ایک کارآمد دوا ہے۔آئرس ٹینکس میں منہ میں جلن کا احساس ہوتا ہے۔زبان ، گلے اور منہ کی اندرونی جلد متاثر ہوتی ہے۔گلا خشک ہو جاتا ہے اور ٹھنڈے پانی سے آرام نہیں آتا۔جب یہ تکلیف بڑھتی ہے تو سر میں شدید درد ہونے لگتا ہے جو بسا اوقات دائیں طرف اپنا مقام بنا لیتا ہے مگر بائیں طرف بھی ہوتا ہے۔اس کے ساتھ قے آتی ہے جس میں صفراوی مادہ نکلتا ہے۔پیٹ میں شدید درد ہوتا ہے جس کے ساتھ کھچاؤ اور تناؤ کا احساس ہوتا ہے۔شیخ بھی ہوتا ہے اور اسہال بھی شروع ہو جاتے ہیں۔آئرس ٹینکس میں مریض اداس رہتا ہے۔ہر بات کا صرف تاریک پہلو دیکھتا ہے۔گھر سے دور ہو تو اعزہ واقارب کے لئے اداس ہو جاتا ہے اور واپس گھر آنے کی خواہش رکھتا ہے تا ہم اداسی کا یہ رجحان