ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 420 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 420

گائیکم 420 وجہ سے بھی جسم میں شدید دردیں ہوتی ہیں۔ڈاکٹر عموماً مشورہ دیتے ہیں کہ دانت یا ٹانسلز (Tonsils) نکلوا دیں لیکن تکلیف پھر بھی باقی رہتی ہے۔اگر وقت پر گائیکم دے دی جائے تو اپریشن کی نوبت نہیں آتی۔گائیکم میں پیشاب کی بار بار حاجت محسوس ہوتی ہے لیکن آتا نہیں ہے۔بے سود کوشش سے بے چینی پیدا ہوتی ہے۔پیشاب کرنے کے بعد سوئی کی سی تیز چھن محسوس ہوتی ہے۔وجع المفاصل کی مریض عورتوں کو بیضہ الرحم میں مستقل سوزش ہو جاتی ہے۔بندش حیض اور رحم کی بعض دوسری تکالیف لاحق ہو جاتی ہیں۔بسا اوقات چھاتی میں کسی چیز کی سرسراہٹ محسوس ہوتی ہے اور جلد سکڑ جاتی ہے اور اس پر چھوٹے چھوٹے دانے نمودار ہو جاتے ہیں۔گائیکم میں دل کی دھڑکن تیز ہونے کی علامت بھی پائی جاتی ہے۔خشک کھانسی کے ساتھ بخار ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ چھاتی کے عضلات میں بائی کی دردیں ہوتی ہیں جن میں سردیوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔دل میں بھی اکثر درد محسوس ہوتا ہے۔اگر جسم میں جوڑوں کے دردہوں اور کسی تیز دوا سے وقتی طور پر انہیں آرام آ جائے تو فاسد مادے خون میں گھل کر دل کے والوز (Volves) کو کمزور کر دیتے ہیں اور دل میں ایسا درد ہوتا ہے جیسا وجع المفاصل کا ہوتا ہے۔اسے دل کی ریجی در دیں کہتے ہیں۔اگر فلو (Flue) کا فاسد مادہ دبا دیا جائے اور دل پر اثر ظاہر ہو تو اس کے لئے سپائی جیلیا اولین دوا ہے۔گاؤٹ (Gout) کے مادے دبانے سے جو اثرات ظاہر ہوں ان میں بھی سپائی جیلیا ہی کام آتی ہے مگر گائیکم اس تکلیف اور دل کی ریحی دردوں میں زیادہ مفید ہے۔یہ دردیں گردن کے پچھلے حصہ میں ہوں ، اعصاب جکڑے ہوئے محسوس ہوں اور گردن کو حرکت دینا بھی مشکل ہو تو گائیکم کو نہیں بھولنا چاہئے۔یہ بازوؤں کے اوپر والے حصوں میں، رانوں میں اور انگلیوں کے جوڑوں میں بھی دردوں کے لئے مفید دوا ہے۔گائیکم میں گردے کی تکلیفیں بھی ملتی ہیں۔عموماً ایسے مریضوں کو بہت پسینہ آتا ہے