ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 398
جلسییم 398 اچانک حرکت سے وہ بے ہوش ہو سکتا ہے یا مر بھی سکتا ہے۔جسم کی حرکت سے دل میں رفتہ رفتہ توانائی پیدا ہوتی ہے جب ہو جائے تو پھر نسبتاً تیز حرکت کی جاسکتی ہے۔جلسیم میں معدہ میں کمزوری اور خالی پن کا احساس بھی ملتا ہے۔جذباتی ہیجان سے پیدا ہونے والے اسہال میں بھی جلسیسیم مفید ہے۔دل کی اعصابی بیماریوں کے ساتھ معدے پر بھی اثر پڑتا ہے۔خوف، دباؤ یا بری خبر سے معدہ خراب ہو جاتا ہے۔یہ علامت ارجنٹم نائیٹریکم میں بھی ملتی ہے۔لیکن دونوں کی دوسری علامتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔جلسیمیم کی نیٹرم میور سے بھی مشابہت ہے۔نیٹرم میور کے سر درد میں سارے سر پر ہتھوڑے برسنے کا احساس ہوتا ہے جبکہ جلسیمیم کا سر درد عموما گدی سے تعلق رکھتا ہے۔گدی کے حصے میں درد کی چوٹیں پڑنے کا احساس ہوتا ہے۔بائیں طرف کا سر درد جو گدی میں آ کر ٹھہر جائے یا گردن میں جائے اس میں جلسیمیم بہت موثر ہے۔اس کے علاوہ اونا سموڈیم (Onosmodium) بھی بہت مفید ہے۔دونوں کو ملا کر میگرین یعنی در دشقیقہ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔بعض دفعہ سردرد کا گرمی سے تعلق ہوتا ہے لیکن اس کا خیال نہیں آتا اس لئے علامات کا غور سے جائزہ لینا چاہئے۔بیماری اور دوا کے مزاج سے واقفیت ضروری ہے۔ہومیو پیتھک دوا صحیح ہو تو مریض کو یا بہت نیند آئے گی یا کھلا پیشاب آئے گا۔جلسیمیم میں کھلے پیشاب کی علامت ملتی ہے جو پانی کی طرح بالکل صاف اور کھلا ہوتا ہے۔اس کے ساتھ بیماری کی علامتوں میں کمی آئے تو یہ جلسیمیم کی علامت ہے۔جلسیم میں بسا اوقات جذباتی ہیجان اور فکر سے جسمانی بیماریاں بھی لاحق ہو جاتی ہیں۔جلسیم میں آنکھوں کی تکلیفیں بھی پائی جاتی ہیں۔وقتی اندھا پن بھی ہو جاتا ہے۔یہ علامت اور دواؤں میں بھی ملتی ہے۔لیکن جلسیمیم میں بہت نمایاں ہے۔اگر ایک طرف کی نظر متاثر ہو تو رسٹاکس کام آئے گی۔بعض صورتوں میں لیکیس بھی مفید ثابت ہوتی ہے۔جلسیم میں پوٹوں پر فالجی اثرات ظاہر ہوتے ہیں اور انہیں کھولنا مشکل ہوتا ہے۔