ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 342 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 342

کیوپرم 342 مریض جس کروٹ لیٹتا ہے اس کے مخالف سمت جھٹکے لگنے لگتے ہیں۔سیمی سی فیوجا میں جس کروٹ لیٹا جائے وہی پہلو پھڑکنے لگتا ہے۔اگر بے ہوشی کے ساتھ سارا جسم تن جائے جیسا کہ مرگی کے دوروں میں ہوتا ہے تو یہ کیو پرم کی خاص علامت ہے لیکن اگر عمومی بے ہوشی ہو اور جسم کا صرف ایک حصہ پھڑک رہا ہو اور دوسرا بالکل ٹھیک ہو اور سارے جسم میں تناؤ کی کیفیت نہ ہو تو وہ کیو پرم کا مریض نہیں ہے۔کیو پرم کالی کھانسی اور دمہ میں بھی بہت مفید ہے۔میرے نزدیک کیوپرم کو کالی کھانسی اور دمہ کے انتہائی تشیخ میں ضرور استعمال کرنا چاہئے۔گرمی کے موسم میں تکلیف ہو اور سانس کی نالی میں تشنج ظاہر ہو اور ٹھنڈی چیز یا برف کی ٹکور سے فائدہ ہو تو کیو پرم فوری طور پر فائدہ پہنچاتی ہے۔سینہ کے اطراف میں اور نچلے حصہ میں تشنجی کیفیت بہت تکلیف دہ ہوتی ہے اور مریض سمجھتا ہے کہ وہ اس تکلیف سے مرہی جائے گا۔سینہ سے لے کر پیٹھ تک چاقو کی طرح چیر نے والے درد کا احساس بھی ہوتا ہے۔دراصل یہ علامت تشیخ سے پیدا ہوتی ہے اور اس میں کیو پرم جادو کی طرح اثر کرتی ہے۔اس پہلو سے کیو پرم پستہ کے شدید درد اور شیخ میں بھی کام آتی ہے۔اگر کوئی بوڑھا آدمی جو لمبے عرصہ سے تجرد کی زندگی گزار رہا ہو شادی کر لے تو اسے بعض دفعه شیخ شروع ہو جاتے ہیں جو میاں بیوی کے ملاپ کے بعد ا کثر پاؤں یا پنڈلیوں سے چل کر اوپر کمر تک پھیل جاتے ہیں۔کیو پرم اس کی بہترین دوا ہے۔اگر دوران حیض تشخی کیفیتیں پیدا ہو جائیں اور سب سے پہلے انگلیاں متاثر ہوں تو بھی کیو پرم ہی اصل دوا ہے۔یہ تشنج انگلیوں سے شروع ہو کر تمام جسم میں پھیل جاتا ہے اور جسم اکڑ جاتا ہے۔اگر بے ہوشی ہو جائے اور ہذیانی کیفیت ہو اور آنکھیں او پر چڑھ جائیں تو فوری طور پر کیو پرم استعمال کرنی چاہئے۔مرگی کے دوروں سے قبل گدی سے سر درد شروع ہو کر آگے پیشانی میں آتا ہو اور مرگی میں شیخ بھی نمایاں علامت ہو، انگلیوں میں جھٹکے لگتے ہوں اور تکلیف سے مریض کی چیخیں نکل جاتی ہوں نیز دورے کے وقت پیشاب اور پاخانہ خطا ہو جاتا ہو تو کیوپرم اس کا بہترین علاج ہے۔